تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 149
فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ﴿149﴾
- فَاسْتَفْتِهِمْپس پوچھیں ان سے
- اَلِرَبِّكَکیا تیرے رب کے لیے
- الْبَنَاتُبیٹیاں
- وَلَهُمُاور ان کے لیے
- الْبَنُوْنَبیٹے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو ان سے پوچھو، کیا تیرے رب کے لئے بیٹیاں ہیں اور ان کے لئے بیٹے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
-6 آگے کا مضمون آیات 182-149
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ سورة کا خاتہم اسی مضمون پر ہوا ہے جس سے اس کا آغاز ہا ہے اور قرآن کے اسلوب بیان کی اس خصوصیت کی طرف متعدد سورتوں میں ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ جس مضمون سے سورة کا آغاز ہوا ہے اسی پر اس کا اختتام بھی ہوا ہے۔
اس سورة کا آغاز اس کی ابتدائی آیات پر ایک نظر ڈال کر دیکھ لیجیے، ملائکہ کی الوہیت اور جنات کی غیب دانی کے ابطال سے ہوا ہے۔ اس کے بعد قریش کی تنبیہ کے لئے حضرات انبیاء کی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تمام انبیاء نے اسی بات کی دعوت دی ہے جس کی دعوت آج ان کو دی جا رہی ہے اور ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح کی گئی ہے کہ جن لوگوں نیح رسولوں کی تکذیب کی وہ تباہی سے دوچار ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے ساتھیوں پر اپنی برکت و رحمت نازل فرمائی۔ دنیا میں بھی ان کے نام اور کام کو زت و پائیداری حاصل ہوئی اور آخری میں بھی ان کے لئے ابدی بادشاہی کی بشارت ہے۔ بعینیہ یہی مضمون آخر میں ایک نئے اسلوب سے آیا ہے۔ پہلے مشرکین قریش کو چیلنج کیا ہے کہ تم فرشتوں کو خدا کی بٹیاں مان کر ان کی جو پرستش کرتے ہو اور جنات اور خدا کے درمانی تم نے جو رشتہ جوڑ رکھا ہے اگر تمہایر پاس اس کو کوئی عقلی یا نفلی دلیل ہے تو اس کو پیش کرو، ورنہ خدا کے غضب سے ڈرو پھر خدا کے حضور میں ملائکہ کی جو اصل پوزیشن ہے حضرت جبرئیل کی زبانی اس کی وضاحت کرائی ہے تاکہ جو لوگ فرشتوں کو خدا کی بٹیاں بنائے بیٹھے اور ان کی پوجا کر رہے ہیں ان کے سامنے ملائکہ کے سب سے بڑے فرد کی زبان سے ان کی حماقت پر ضرب لگا دی جائے کہ فرشتے خود اپنا درجہ و مقام کیا بتاتے ہیں اور ان کے احمق پرستار ان کو کیا سمجھتے ہیں۔ آخر میں نبی ﷺ کو تسلی دی ہے کہ اللہ کے رسولوں کے لئے فتح و نصرت کا جو وعدہ ہوچکا ہے وہ تمہارے لئے بھی پورا ہوگا اس وجہ سے صبر کے ساتھ اپنا کام کئے جائو تمہارے مخالفین عنقریب اپنا انجام دیکھ لیں گے … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-7 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
فاستقتھم الربک البنات ولھم البنون (149)
اس کلام کا حلف سورة کے ابتدائی مضمون پر ہے
اس کلام کا عطف، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ابتدائے سورة کے مضمون پر ہے۔ اگرچہ کلام کے دونوں حصوں کے درمیان باعتبار الفاظ بعد نظر آتا ہے۔ لیکن یہ بعض محض ظاہری ہے، حقیقت کے اعتبار سے کلام بالکل مربوط ہے۔ شروع میں ملاکئہ اور جنات کی الوہیت کی تردید کے بعد بعینیہ اس فاستفتھم کے لفظ سے آیت 11 میں کلام کا رخ قریش کے لئے تہدید و عید اور پیغمبر ﷺ کے لئے تسلی کی طرف مڑ گیا تھا اور وہی مضمون یہاں تک پورے تسلسل کے ساتھ جاری رہا۔ اس کے ختم ہونے کے بعد اسی فاستفتھم پر عطف کر کے اصل مسئلہ کو پھر لے لیا اور فرمایا کہ ان لوگوں سے، جو فرشتوں کو خدا کی بٹیاں مان کر ان کی پوجا کر رے ہیں، پوچھو کہ تم اپنے لئے تو بیٹے پسند کرتے ہو تو تیرے رب کے لئے انہوں نے بیٹیاں کیوں پسند کی ہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ اول تو خدا کی طرف بیٹوں اور بیٹیوں کی نسبت ہی ایک شدید قسم کی جہالت ہے لیکن انہوں نے جہالت پر جہالت یہ کی ہے کہ خدا کے لئے انہوں نے وہ چیز پسند کی ہے جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں۔ حالانکہ عقل و فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ خدا کی طرف اس کی شایان شان صفات منسوب کی جائیں اور انہوں نے صرف یہی ظلم نہیں کیا ہے کہ اس کی طرف اس کی شان کے منافی صفت منسوب کی ہے بلکہ ایک واپسی صفت منسوب کی ہے جس کو خود اپنے لئے بھی باعث ننگ خیال کرتے ہیں۔