Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 30

  1. وَ مَا كَانَ لَنَا عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ١ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ﴿30﴾

    1. وَمَااور نہ
    2. كَانَتھا
    3. لَنَاہمارا
    4. عَلَيْكُمْتم پر
    5. مِّنْ سُلْطٰنٍ ۚکوئی زور
    6. بَلْبلکہ
    7. كُنْتُمْتم تھے
    8. قَوْمًاایک قوم
    9. طٰغِيْنَسرکش
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہمارا تمہارے اوپر کوئی زور تو تھا نہیں بلکہ تم خود ہی سرکش لوگ تھے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وما کان لنا علیکم من سلطن ج بل کنتم قوماً طغین (30) سلطان کے معنی زور اور انتیار کے ہیں۔ یعنی ہمارا تمہارے دلوں پر کوئی زور و اختیار تو تھا نہیں کہ تم اپنا قصور ہمارے سر تھوپتے ہو تم خود نافرمان اور سرکش لوگ تھے کہ حق کے واضح طور پر سامنے آجانے کے بعد تم نے اس کی پیروی کرنے کے بجائے ہماری بات مانی۔ ایک نادر اسلوب قالوتنا عن الیمین کے ٹکڑے کی تاویل میں ہمارے مفسرین کو بڑی الجھن پیش آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حضرات اسلوب کلام کی اس ندرت کو نہیں سمجھ سکے جو یہاں ملحوظ ہے۔ قرآن میں اہل دوزخ کے باہمی سوال و جواب کے سلسلے میں یہ بلیغ اسلوب جگہ جگہ استعمال ہوا ہے کہ متکلم کی بات شروع ہوتے ہی مخاطب اس کو کاٹ کر اس کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ اس کے لگائے ہوئے الزام سے اپنے کو بچا لے جائے۔ پچھلی سورتوں میں اس کی بعض مثالوں کا ذکر ہم کرچکے ہیں۔ آگے بھی خاص طور پر آخری گروپ کی سورتوں میں اس کی نہایت بلیغ مثالیں آئیں گی۔ یہاں بھی وہی اسلوب ہے۔ عوام جو نہی اپنے لیڈروں کو ملامت کرنا چاہیں گے اور ان کی زبان یہ کلمہ نکلے گا کہ آپ ہی لوگ ہمارے پاس آتے تھے دبنے سے … تو ان کے لیڈر سمجھ جائیں گے کہ یہ لوگ کہنا چاہتے ہیں کہ تم ہی لوگ ہمارے دہنے بائیں سے آ کر ہمیں پیغمبر کی بات سننے سے روکتے رہے ہو چناچہ جونہی ان کی زبان سے لفظ عن الیمین نکلے گا وہ فوراً سبقت کر کے ان کی بات کاٹ دیں گے اور اپنا دفاع شروع کردیں گے۔ ان کی اس مداخلت اور اس قطع کلام کو ظاہر کرنے کے لئے قرآن نے بات عن الیمین ہی پر ختم کردی ہے تاکہ اسلوب کلام ہی سے یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ آج جو لوگ آنکھ بند کر کے اپنے لیڈروں کی پیروی کر رہے ہیں ایک دن آئے گا کہ ان کے لیڈران کو بات بھی پوری نہیں کہنے دیں گے بلکہ بیچ ہی سے بات کاٹ کر اپنی برأت کا اعلان شروع کردیں گے۔ سورة سبا کی آیات 33-31 کے تحت لیڈروں اور عوام کی توتکار کی تفصیل گزر چکی ہے۔ اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔