Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 99

  1. وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ﴿99﴾

    1. وَقَالَاور اس (ابراہیم نے) کہا
    2. اِنِّىْبیشک میں
    3. ذَاهِبٌجانے والا ہوں
    4. اِلٰى رَبِّيْاپنے رب کی طرف
    5. سَيَهْدِيْنِعنقریب وہ مجھے راہ دکھائے گا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس نے کہا، میں اپنے رب کی طرف جا رہ اہوں۔ وہ میری رہنمائی فرمائے گا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وقال انی ذاھب انی ربی سیھدین (99) حضرت ابراہیم کی جرت اس واقعہ کے بعد حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے ایمان سے مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر وہاں سے ہجرت کا ارادہ فرما لیا۔ ہجرت کا فیصلہ ایک بڑا اہم فیصلہ ہے۔ نبی اپنے ماحول سے کٹ کر ایک بالکل نئے ماحول میں داخل ہونے کا ارادہ کرتا ہے اور کچھ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ نیا ماحول اس کے لئے سازگار ثابت ہوگا یا نا سازگار اس وجہ سے اس راہ میں اس کا تمام تر اعتماد اللہ تعالیٰ ہی کی دستگیری و رہنمائی پر ہوتا ہے۔ یہاں سیھدین کے لفظ سے اسی اعتماد کا اظہار ہو رہا ہے کہ اگرچہ حالات بالکل پردے میں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ س۔ امید ہے کہ وہ رہنمائی فرمائے گا۔ اس کا وعدہ یہ کہ جو لوگ اس کی راہ میں جدوجہد کریں گے وہ ان کے لئے راہ کھولے گا۔