Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 39. Az-Zumar · Ayah 35

  1. لِیُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿35﴾

    1. لِيُكَفِّرَتاکہ دور کردے
    2. اللّٰهُاللہ
    3. عَنْهُمْان سے
    4. اَسْوَاَبرائی
    5. الَّذِيْوہ جو
    6. عَمِلُوْاانہوں نے کیے (اعمال)
    7. وَيَجْزِيَهُمْاور انہیں جزا دے
    8. اَجْرَهُمْان کا اجر
    9. بِاَحْسَنِبہترین (اعمال)
    10. الَّذِيْوہ جو
    11. كَانُوْا يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تاکہ اللہ ان سے دفع کر دے ان کاموں کے بدتر انجام کو جو انہوں نے کئے اور ان کو ان کاموں کا اس سے خوب تر صلہ دے جو انہوں نے کئے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 35 روز جزا کی غایت یہ غایت بیان ہئوی ہے اس روز جزا کی جس کا ذکر اوپر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دن اس لئے مقرر فرمایا ہے کہ اپنے خوب کار بندوں کے دامن سے ان کے اعمال کے بدتر اثرات کو جھاڑ دے اور ان اعمال کا جو خوب تر صلہ ہے اس سے ان کو نوازے یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ اس دنیا میں آدمی نہ اپنے برے اعمال کے اثرات و نتائج ہی سے کما حقہ آگا ہو سکتا نہ اپنے اچھے اعمال کے صلہ کے قدر و یمت ہی سے یہ دنیا چند روزہ ہے اور اس جزا یا سزا کا تعلق ایک ایسی دنیا سے ہے جس کی سزا بھی ابدی ہے اور جزا بھی اسی وجہ سے آیت میں اسرا اور احسن کے الفاظ استعمال ہوئے مدعا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ روز جزا اسی لئے مقرر فرمایا ہے کہ اس کے جو بندے ایمان و عمل کی روش اختیار کریں ان کو وہ ان کے اعمال کے تاریک تر پہولو کے اثرات سے بچائے اور ان کے اعمال کا جو سب سے اعلیٰ پہلو ہے اس کی برکتوں سے نوازے۔ گویا اس میں یہ رہنمائی بھی دے دی گئی کہ آدمی اپنے عمل کے صرف فوری اثرات و نتائج ہی پر نگاہ نہ رکھے بلکہ ان اثرات و نتائج پر نگاہ رکھے جو ایک ابدی زندگی میں ان پر مترتب ہونے والے ہیں۔