تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 39. Az-Zumar · Ayah 54
وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ﴿54﴾
- وَاَنِيْبُوْٓااور رجوع کرو
- اِلٰىطرف
- رَبِّكُمْاپنا رب
- وَاَسْلِمُوْا لَهٗاور فرمانبردار ہوجاؤ اس کے
- مِنْ قَبْلِاس سے قبل
- اَنْکہ
- يَّاْتِيَكُمُتم پر آئے
- الْعَذَابُعذاب
- ثُمَّپھر
- لَا تُنْصَرُوْنَتم مدد نہ کیے جاؤ گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور مرجوع کرو اپنے رب کی طرف اور اس کے مطیع بن جائو قبل اس کے کہ تم پر عذاب آدھمکے، پھر تمہاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 54
اللہ تعالیٰ رحمت کے طالبوں کے لئے صحیح راستہ
یہ اس طریقہ کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کے طالبوں کو اختیار کرنا چاہئے
فرمایا کہ دوسرے مزعومہ وسائط و وسائل سے کٹ کر اپنے رب کی طرف رجوع کرو، گناہوں سے توبہ کر کے اس کی رحمت و مغفرت کے طلب بنو اور خدا کے عذاب کے ظہور سے پہلے بالکلیہ اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کر دو۔ یعنی عبادت اور اطاعت دونوں بلاشرکت غیرے اسی کی کرو۔
من قبل ان یاتیکو العذاب سے عذاب آخرت بھی مراد ہوسکتا ہے لیکن یہاں قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عذاب کی طرف اشارہ ہے جو رسول کے اتمام حجت کے بعد اس کے مکذبین پر لازماً آتا ہے۔ اس عذاب کے ظہور کے بعد نہ کسی کے لئے ایمان ہی کی گنجائش باقی رہ جاتی اور نہ ایسے لوگوں کی کسی کی طرف سے کوئی مدد ہی ہوتی۔ مطلب یہ ہے کہ اس عذاب کے متمنی اور طالب نہ بنو۔ بلکہ اپنی بھلائی چاہتے ہو تو اس سے پہلے پہلے توبہ اور اصلاح کی فکر کو۔