Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 39. Az-Zumar · Ayah 55

  1. وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ﴿55﴾

    1. وَاتَّبِعُوْٓااور پیروی کرو
    2. اَحْسَنَسب سے بہتر
    3. مَآ اُنْزِلَجو نازل کی گئی
    4. اِلَيْكُمْتمہاری طرف
    5. مِّنْسے
    6. رَّبِّكُمْتمہارا رب
    7. مِّنْ قَبْلِاس سے قبل
    8. اَنْ يَّاْتِيَكُمُکہ تم پر آئے
    9. الْعَذَابُعذاب
    10. بَغْتَةًاچانک
    11. وَّاَنْتُمْاور تم
    12. لَا تَشْعُرُوْنَتم کو شعور (خبر) نہ ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے، قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آپڑے اور تم کو اس کی خبر بھی نہ ہو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 55 قرآن میں اتمام حجت کے پہلو یہ اسی اوپر والے مضمون کی وضاحت ہے کہ تمہارے لئے صحیح راہ یہ ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے جو بہترین چزی تمہاری طرف اتاری گئی ہے اس کی پیروی کرو بہترین چیز سے مراد ظاہر ہے کہ قرآن مجید ہے جس کے احسن الحدیث ہونے کا ذکر آیت 23 میں گزر چکا ہے دور سے آسمانی صحیفوں کے مقابل میں قرآن کی جو فضیلت حاصل ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ مثلاً یہ کہ قرآن خدا کی آخری اور کامل کتاب ہے۔ یہ تحریف کے تمام شوانب سے محفوظ ہے۔ یہ دنی فطرت کا داعی ہے اس وجہ سے پچھلی شریعتوں کے تشدد ات سے پاک ہے۔ خاص عربوں کے نقطہ نظر سے بھی اس کے چند پہلو قابل لحاظ ہیں۔ مثلاً یہ نہایت فصیح وبلیغ عربی میں ہے جس کی نظری پیش کرین سے دور سے قاصر ہیں اور یہ اہل عرب پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے اپنی آخری کتاب عربی میں اتاری۔ یہ کتاب متشابہ اور سبع مثانی کی صورت میں نازل ہا ہے جس سے اس کی افادیت دور سے صحیفوں کے مقابل میں وہ چند ہوگئی ہے (وضاحت اس کی پیچھے ہوچکی ہے) یہ عربوں کے جد اعلیٰ حضرت ابراہیم ؑ کی ملت کا داعی ہے اس وجہ سے اس کی دعوت اہل عرب کے لئے ایک مانوس چیز ہے۔ فرمایا کہ ان تمام خوبیوں کا تقاضا ہے کہ تم اس کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لو اور اس کو حرز جاں بنئاو۔ اگر تم نے اس کی قدر نہ کی تو یاد رکھو کہ اس کی تکذیب کی صورت میں تم پر ایک ایسا عذاب آدھمکے گا جس کا تم کو گمان بھی نہ ہوگا۔