تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 13
هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ﴿13﴾
- هُوَ الَّذِيْوہ جو کہ
- يُرِيْكُمْتمہیں دکھاتا ہے
- اٰيٰتِهٖاپنی نشانیاں
- وَيُنَزِّلُاور اتارتا ہے
- لَكُمْتمہارے لئے
- مِّنَ السَّمَآءِآسمانوں سے
- رِزْقًا ۭرزق
- وَمَااور نہیں
- يَتَذَكَّرُنصیحت قبول کرتا
- اِلَّاسوائے
- مَنْجو
- يُّنِيْبُرجوع کرتا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا اور تمہارے لئے آسمان سے رزق اتارتا ہے۔ اور یاددہانی نہیں حاصل کرتے مگر وہی جو متوجہ ہونے والے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
رحمت اور عذاب دونوں خدا ہی کے اختیار میں ہے
یعنی رحمت اور نقمت دونوں خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ اس وجہ سے ڈرنا بھی اسی سے چاہئے اور امید بھی اسی سے رکھنی چاہئے۔ وہ اپنی ان دونوں شانوں کا برابر مشاہدہ کراتا رہتا ہے۔ وہی آسمان سے رعد و برق اور صاعقہ کا بھی مشاہدہ کراتا رہتا ہے اور وہی بارش بھی نازل کرتا ہے جو زمین کے تمام رزق و فضل کے دروازے کھولتی ہے۔ یہ اس بات کا صاف ثبوت ہے کہ آسمان اور زمین دونوں ایک ہی خدا کے تصرف میں ہیں اور اس کے ہاتھ میں صاعقہ ٔ عذاب بھی ہے اور رزق و فضل کے خزانے بھی۔
نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے اصل شے توحید ہے
’ وما یتذکر الا من ینیب ‘ یعنی خدا کی یہ شانیں لوگوں کو تعلیم و تذکیر کے لئے ظاہر تو برابر ہوتی رہتی ہیں لیکن اس سے فائدہ اٹھانے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آدمی کے اندر متوجہ ہونے اور سوچنے سمجھنے کا ارادہ پایا جاتا ہو۔ اگر اپنی خواہشوں کے پیچھے کوئی ایسا اندھا بن جائے کہ ان سے ہٹ کر کسی اور چیز کی طرف دیکھنے اور اس سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا کوئی حوصلہ اس کے اندر پایا ہی نہ جاتا ہو تو ایسے شخص کی آنکھیں کوئی بڑی سے بڑی نشانی بھی نہیں کھول سکتی۔