تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 15
رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ﴿15﴾
- رَفِيْعُبلند
- الدَّرَجٰتِدرجے
- ذُو الْعَرْشِ ۚعرش کا مالک
- يُلْقِيوہ ڈالتا ہے
- الرُّوْحَروح
- مِنْ اَمْرِهٖاپنے حکم سے
- عَلٰي مَنْجس پر
- يَّشَآءُوہ چاہتا ہے
- مِنْ عِبَادِهٖاپنے بندوں میں سے
- لِيُنْذِرَتاکہ وہ ڈرائے
- يَوْمَ التَّلَاقِملاقات (قیامت) کا دن
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ بلند درجوں والا اور عرش کا مالک ہے۔ وہ ڈالتا ہے روح، جو اس کے امر میں سے ہے، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو روز ملاقات سے آگاہ کر دے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی اللہ تعالیٰ بڑے بلند درجات والا اور تمام کائنات کے عرش حکومت کا مالک ہے۔ اس تک کسی کی رسائی نہیں ہے۔ یہ مشرکین جن کو اس کا شریک وسہیم اور اس کا مقرب بنائے بیٹھے ہیں، یہ سب ان کے خود تراشیدہ مقربین ہیں، خدا کی بارگاہ بلند سب کی پہنچ سے بالا ہے۔
خدا کی رضیات کے علم کا واحد ذریعہ وحی ہے
یلقی الروح من امرہ علی من یشاء من عبادہ ‘ ’ روح ‘ سے مراد یہاں ’ وحی ‘ ہے۔ وحی کو ’ روح ‘ سے تعبیر کرنے کی وجہ واضح ہے کہ جس طرح روح سے جسم کو زندگی حاصل ہوتی ہے اسی طرح وحی سے انسان کی عقل اور اس کے دل کو زندگی، حرارت اور روشنی حاصل ہوتی ہے۔ حضرت مسیح ؑ نے اس حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے کہ ”انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا بلکہ س کلمہ سے جیتا ہے جو خداوند کی طرف سے آتا ہے“ ’ منامرہ ‘ کی صفت اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ یہ وحی امور الٰہیہ میں سے ہے جس کی پوری کیفیت و ماہیت ہر شخص نہیں سمجھ سکتا، اس کی کیفیت وہی سمجھتا ہے جو اس کو نازل کرتا ہے یا پھر وہ سمجھتا ہے جس کو اس کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہی حقیقت دوسرے مقام میں یوں واضح فرمائی ہے کہ ’ ویسئلونک عن الروح ط قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلا (الاسرآء : 85) وہ تم سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں، کہہ دو ، روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تم کو علم نہیں دیا گیا ہے مگر تھوڑا) سورة اسرآء کی مذکورہ آیت کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
یہاں اس ٹکڑے کے لانے سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ خدا کی بارگاہ بلند تک کسی جن و بشر کی رسائی نہیں ہے کہ وہ اس کے غیب سے واقف ہو سکے۔ اس کی مرضیات جاننے کا واحد ذریعہ صرف وہ وحی ہے جو وہ اپنے بندوں میں سے اس پر نازل فرماتا ہے جس کو اس کار خاص کے لئے انتخاب فرماتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین نے اپنے زعم کے مطابق غیب کے جاننے کے جو ذرائع ایجاد کر رکھے ہیں وہ بالکل لا یعنی ہیں۔ خدا کی پسند و ناپسند جاننے کا ذریعہ بس وحی ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر نازل فرماتا ہے لیکن یہ شامت زدہ لوگ قرآن اور اس کے لانے والے کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کو زعم ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بنانے والا ہوتا تو ان میں سے کسی کو رسول بناتا۔ ان کو پتہ نہیں ہے کہ اس منصب کے لئے اللہ تعالیٰ ہی جس کو چاہتا ہے منتخب فرماتا ہے اور وہ جس کو منتخب فرماتا ہے وہی اس کا اہل ہوتا ہے، ہر مدعی اس کا اہل نہیں ہوتا۔
لینذر یوم التلاق۔ ’ یوم التلاق ‘ سے مراد روز قیامت ہے اس لئے کہ اس دن سب کی پیشی خدا کے آگے ہونی ہے۔ وحی اور رسالت کا مقصود دراصل اسی دن سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے۔ اصل مسئلہ جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے یہی ہے۔ اگر یہ سمجھ میں آجائے تو دوسرے تمام مسائل کو سمجھنے کے لئے راہ کھل جاتی ہے۔ اگر یہ سمجھ میں نہ آئے تو انسان کا کوئی قدم بھی صحیح سمت میں نہیں اٹھ سکتا۔ اس وجہ سے انبیاء کرام کا اصل مشن اسی منزل کی رہنمائی رہا ہے۔