تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 16
یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ﴿16﴾
- يَوْمَجس دن
- هُمْ بٰرِزُوْنَ ڬوہ ظاہر ہوں گے
- لَا يَخْفٰىنہ پوشیدہ ہوگی
- عَلَي اللّٰهِاللہ پر
- مِنْهُمْان سے، کی
- شَيْءٌ ۭکوئی شے
- لِمَنِکس کے لئے
- الْمُلْكُبادشاہت
- الْيَوْمَ ۭآج
- لِلّٰهِاللہ کے لئے
- الْوَاحِدِواحد
- الْقَهَّارِزبردست
Translation · Tadabbur-e-Quran
جس دن وہ خدا کے آگے بالکل بےنقاب ہوں گے۔ ان کی کوئی چیز بھی خدا سے مخفی نہیں ہوگی۔ آج کی بادشاہی کس کے اختیار میں ہے ! خدائے مواحد وقہار کے اختیار میں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نہ خدا سے کوئی چیز مخفی ہوگی اور نہ کوئی اس کے قابو سے باہر ہو گا
اس دن ہر شخص کا سارا ظاہر و باطن خدا کے آگے بالکل بےنقاب ہوگا۔ کسی کی کوئی بات بھی اس سے ڈھکی چھپی نہیں ہوگی کہ کسی گواہی و ثبوت کی ضرورت پیش آئے یا کوئی غلط بیانی کرسکے یا اس کی کوئی غلط تاویل کرسکے یا کوئی اس کے باب میں کوئی جھوٹی سفارش کرسکے۔
’ لمن الملک الیم ‘ یعنی اس وقت جب کہ ہر شخص خدا کے آگے بالکل بےنقاب اور بےبس ہوگا مجرموں سے خطاب کر کے پوچھا جائے گا کہ اب بولو، آج بادشاہی کس کی ہے ؟ تم جن کو خدا کا شریک وسہیم بنائے بیٹھے تھے اور یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ تم کو خدا سے بچا لیں گے، وہ کہاں گئے ؟
’ للہ الواحد القھار ‘ چونکہ اس وقت کسی کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہوگا اس وجہ سے خود ہی جواب دیا کہ آج کے دن بادشاہی صرف خدائے واحد وقہار کی ہے۔ یہاں نہ کوئی کسی کا یاورد ناصر بن سکے گا اور نہ کوئی خدا کے کسی فیصلہ کو بدلوا سکے گا۔ لفظ ’ قھار ‘ کی تحقیق اس کے محل میں بیان ہوچکی ہے۔