Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 18

  1. وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ﴿18﴾

    1. وَاَنْذِرْهُمْاور انہیں ڈرائیں
    2. يَوْمَ الْاٰزِفَةِقریب آنے والاروز
    3. اِذِ الْقُلُوْبُجب دل (جمع)
    4. لَدَى الْحَنَاجِرِگلوں کے نزدیک
    5. كٰظِمِيْنَغم سے بھرے ہوئے
    6. مَا للظّٰلِمِيْنَنہیں ظالموں کیلئے
    7. مِنْ حَمِيْمٍسے، کوئی دوست
    8. وَّلَااور نہ
    9. شَفِيْعٍکوئی سفارش کرنیوالا
    10. يُّطَاعُجس کی بات مانی جائے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان کو قریب آ لگنے والی آفت سے ڈرا جب کہ دل حلق میں آ پھنسیں گے اور وہ غم سے گھٹے ہوئے ہوں گے۔ اس دن ظالموں کا نہ کوئی ہمدرد ہوگا اور نہ کوئی ایسا سفارشی جس کی بات سنی جائے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لفظ ’ ازفۃ ‘ کا مفہوم ’ انزفۃ ‘ کے معنی وہ چیز جو قریب آ لگی ہو۔ یہاں یہ لفظ قیامت کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اس صفت کے استعمال سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ قیامت کو بہت بعید نہ سمجھو، وہ بالکل پاس ہی کھڑی ہے۔ من مات فقد قامت قیامت ہٗ (جو مرا اس کی قیامت آگئی) قیامت کے دن اس فاصلہ کا کسی کو بھی احساس نہیں ہوگا جو اس کے اور قیامت کے درمیان حائل ہے، بلکہ ہر شخص یہی سمجھے گا کہ ابھی سوئے تھے ابھی جاگ پڑے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہر شخص کی قیامت میں بس اتنے ہی دن باقی ہیں جتنے دن اس دنیا میں اس کی زندگی کے باقی ہیں۔ جس طرح ہر شخص کی موت اس کے پہلو میں کھڑی ہے اسی طرح قیامت بھی اس کے بغل میں موجود ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب کسی قوم کی طرف رسول کی بعثت ہوتی ہے تو وہ رسول اس کے لئے خدا کی عدالت کی منزلت میں ہوتا ہے۔ اگر قوم رسول کی تکذیب کردیتی ہے تو لازماً تباہ کردی جاتی ہے۔ یہ اس قوم کے لئے گویا قیامت صغریٰ ہوتی ہے جو تمہید ہوتی ہے قیامت کبریٰ کی۔ اس لفظ (ازفۃ) کے استعمال سے مقصود قریش کو یہ تنبیہ ہے کہ وہ قیامت کو بعید نہ سمجھیں۔ ان کی عدالت کا وقت اب آچکا ہے۔ ایک عدالت ان کے لئے قائم ہوچکی ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ آخرت کی عدالت کا انتظار کریں جو سارے معاملات کا آخری فیصلہ کر دے گی۔ ’ اذا القلوب لدی الحنا جرکظمین۔ ما للظلمین من حمیم ولا شفیع یطاع ‘۔ یہ اس قیامت کی ہولناکی کی تصویر ہے کہ اس دن مجرموں کے دل گویا حلق میں آئے ہوئے ہونگے اور وہ غم والم سے گھٹے ہوئے ہوں گے۔ نہ اس دن کسی کے اپنے حلق سے اپنی مدافعت میں کوئی آواز نکلے گی اور نہ ان کا کوئی ہمدرد یا سفارشی ہوگا جو ان کی حمایت یا سفارش میں اپنی زبان کھولے۔ ’ شفیع ‘ کے ساتھ ’ بطاع ‘ کی صفت مشرکین کے اس دہم پر ضرب لگانے کے لئے ہے کہ وہ اپنے معبودوں کے متعلق یہ تصور رکھتے ہیں کہ یہ خدا کے ایسے لاڈلے اور چہیتے ہیں کہ خدا ان کی ناز برداری میں ان کی ہر بات لازماً مانے گا۔ فرمایا کہ خدا کے ہاں ان کا کوئی سفارشی ایسا نہیں ہوگا جس کی کوئی شنوائی ہو۔