تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 20
وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ع﴿20﴾
- وَاللّٰهُاور اللہ
- يَقْضِيْفیصلہ کرتا ہے
- بِالْحَقِّ ۭحق کے ساتھ
- وَالَّذِيْنَاور جو لوگ
- يَدْعُوْنَپکارتے ہیں
- مِنْ دُوْنِهٖاس کے سوا
- لَا يَقْضُوْنَنہیں فیصلے کرتے
- بِشَيْءٍ ۭکچھ بھی
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- هُوَوہ
- السَّمِيْعُسننے والا
- الْبَصِيْرُدیکھنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اللہ عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کریں گے۔ اللہ ہی سننے والا دیکھنے والا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وہی یہ بات کہ کوئی اپنی سفارش سے حق کو باطل اور باطل کو حق بنا سکے تو اس کا بھی امکان نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ حق کے مطابق ہوگا اور کوئی اپنی سفارش سے اس کے فیصلہ ٔ حق کو باطل سے نہیں بدلوا سکتا۔
’ والذین یدعون من دونہ لا یقضون بشیء ‘ رہے ان مشرکین کے معبود ان باطل تو ان کے اختیار میں سرے سے کسی امر کا فیصلہ ہی نہ ہوگا کہ وہ کسی کی حمایت یا مخالفت میں کچھ کرسکیں۔
’ ان اللہ ھو السمیع البصیر ‘۔ یہ اوپر کی بات کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ حقیقی دیکھنے والا اور سننے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اس کے سوا حق کسے ہے کہ وہ کوئی فیصلہ کرے اور جب وہ دیکھنے والا اور سننے والا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ کوئی اپنی سفارش سے اس کو دھوکا دے کر غلط فیصلے کرا سکے اور یہ معبودان باطل جو نہ دیکھتے ہیں نہ سنتے ہیں آخر کس بنا پر ان کے متعلق یہ تصور کیا گیا ہے کہ یہ بھی کسی کے معاملہ کا فیصلہ کرنے والے بنیں گے !