تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 21
اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ﴿21﴾
- اَوَکیا
- لَمْ يَسِيْرُوْاوہ چلے پھرے نہیں
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- فَيَنْظُرُوْاتو وہ دیکھتے
- كَيْفَ كَانَکیسا ہوا
- عَاقِبَةُانجام
- الَّذِيْنَان لوگوں کا جو
- كَانُوْاتھے
- مِنْ قَبْلِهِمْ ۭان سے پہلے
- كَانُوْا هُمْوہ تھے
- اَشَدَّ مِنْهُمْزیادہ سخت ان سے
- قُوَّةً وَّاٰثَارًاقوت اور آثار
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُتو انہیں آپکڑا اللہ نے
- بِذُنُوْبِهِمْ ۭان کے گناہوں کے سبب
- وَمَا كَانَاور نہیں ہے
- لَهُمْان کیلئے
- مِّنَ اللّٰهِاللہ سے
- مِنْ وَّاقٍکوئی بچانے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جوان سے پہلے گزرے ہیں ! وہ ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھے قوت میں بھی اور ان آثار کے اعتبار سے بھی جو انہوں نے زمین میں چھوڑے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قریش کو صاف الفاظ میں تہدید
یہ قریش کو صاف الفاظ میں تہدید ہے کہ اس جسارت کے ساتھ رسول کے انذار کی جو وہ تکذیب کر رہے ہیں تو کیا کبھی اس ملک کی سیاحت انہوں نے اس قصد سے نہیں کی کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے ان قوموں کا کیا حشر ہوچکا ہے جو اپنی قوت و جمعیت میں ان سے بڑھ کر اور تعمیر و تمدن کے آثار کے اعتبار سے ان پر کہیں فوقیت رکھنے والی تھیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کے جرموں کی پاداش میں ان کو پکڑا تو نہ ان کی قوت و جمعیت ان کے کچھ کام آسکی، نہ ان کی تعمیری و تمدنی ترقیاں آڑے آسکیں اور نہ ان کے وہ اقسام و الٰہہ ہی ان کی حفاظت کرسکے جن کو وہ اپنا حامی و ناصر سمجھتے تھے۔ یہ اشارہ عاد وثمود اور اہل مدین وغیرہ کی طرف ہے جن کی قوت و جمعیت اور تمدنی و تعمیری ترقیوں کی تفصیلات پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔
لفظ ’ اشد ‘ یہاں ’ اعظم و اکثر ‘ کے مفہوم پر بھی متضمن ہے اس وجہ سے ’ قوۃ ‘ کے ساتھ ’ اثاراً ‘ کا ذکر بالکل موزوں ہے۔ ’ اٰثار ‘ سے مراد تمدنی و تعمیری ترقیوں کے آثار ہیں۔ دنیا میں انہی آثار کو ہمیشہ قوموں کی عظمت و شوکت کی دلیل سمجھا گیا ہے۔ لیکن قرآن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اگر قوم ایمان سے عاری ہو تو یہ آثار اس کے زوال کی نشانی ہیں اور بالآخر یہی اس کے قومی وجود کے لئے مقبروں کی صورت میں تبدیل ہو کے رہتے ہیں۔