تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 23
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ﴿23﴾
- وَلَقَدْاور تحقیق
- اَرْسَلْنَاہم نے بھیجا
- مُوْسٰىموسیٰ
- بِاٰيٰتِنَااپنی نشانیوں کے ساتھ
- وَسُلْطٰنٍاور سند
- مُّبِيْنٍروشن
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے بھیجا موسیٰ ؑ کو، اپنی نشانیوں اور ایک واضح سند کے ساتھ ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
2۔ آگے کا مضمون …آیات : 23۔ 55
آگے حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کی سرگزشت آرہی ہے جس سے اصل مقصود تو اس دعوے کی دلیل پیش کرنا ہے جو اوپر والی آیت میں مذکور ہوا ہے کہ جب کسی قوم کی طرف رسول کی بعثت ہوتی ہے اور قوم اس کی تکذیب کردیتی ہے تو وہ لازماً تباہ کردی جاتی ہے اگرچہ قوت و شوکت اور تعمیر و تمدن کے اعتبار سے وہ کتنی ہی برتر قوم ہو۔ یہ سرگزشت سنا کر نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم صبر کے ساتھ اپنا کام کئے جائو، یہی حشر قریش کے ان فراعنہ کا بھی ہونا ہے اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی۔ ساتھ ہی اس سرگزشت کے ضمن میں خاندان فرعون کے ایک مرد مومن کی داستان بیان ہوئی ہے جو ایک مدت تک تو، بربنائے مصلحت، اپنے ایمان کو چھپائے رہے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی دعوت کے لئے آخری خطرہ پیش آگیا ہے تو کھل کر میدان میں آگئے اور حضرت موسیٰ ؑ کی حمایت میں اپنی جان بڑا دی۔
اس مرد مومن کی سرگزشت میں جو سبق مضمر ہیں ان کی وضاحت تو آیات کی تفسیر کے ذیل میں آئے گی، یہاں اس کے چند نمایاں پہلو پیش نظر رکھئے۔
قریش کے لیڈروں کو یہ اس پہلو سے سنائی گئی ہے کہ اپنی قوم کی حقیقی خیر خواہی یہ ہے جو اس بندہ مومن نے کی نہ کہ وہ جو اپنے زعم کے مطابق تم کر رہے ہو۔ اس مرد مومن نے جب دیکھا کہ اس کی قوم تباہی کے راستہ پر چل پڑی ہے تو اپنے تمام مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اس نے اس کو اس خطرناک اقدام سے روکنے کے لئے اپنے آپ کو خطرے میں ڈال دیا اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنا سارا زور و زر اپنی قوم کو عذاب الٰہی کی طرف دھکیلنے میں صرف کر رہے ہو۔
جو لوگ کسی مصلحت سے اب تک اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے ان کو اس سرگزشت کے ذریعہ سے یہ سبق دیا گیا ہے کہ ایمان کے معاملے میں مصلحت کا لحاظ اسی وقت تک جائز ہے جب تک اس سے مقصود ایمان کی حفاظت اور اہل ایمان کی بہبود ہو۔ اگر ایمان اور اہل ایمان کے لئے آخری خطرہ پیش آجائے تو تمام مصالح کو بالائے طاق رکھ کے اس مرد مومن کی طرح ہر شخص کو میدان میں آجانا چاہئے۔
کمزور اور مظلوم مسلمانوں کو اس سرگزشت کے ذریعہ سے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جو لوگ کلمہ ٔ حق کی سربلندی کے لئے اس مرد مومن کی طرح بازی کھیلتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کا یاور وناصر ہوتا ہے۔
اسی روشنی میں آیات کی تلاوت فرمائیے۔
3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
’ آیت ‘ سے مراد وہ احکام و ہدایات ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس لے کر آئے اور سلطن مبین سے اشارہ یہاں معجزہ ٔ عصا کی طرف ہے جس کی نوعیت ایک خدائی سند کی تھی جو حضرت موسیٰ ؑ کو عطا ہوئی تھی کہ فرعون اور اس کے اعیان کو ان کے خدائی سفیر ہونے کے باب میں کسی شک کی گنجائش نہ رہے۔ لفظ ’ سلطان ‘ قرآن میں سند، اختیار نامہ، پروانہ اور اتھارٹی کے مفہوم میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ مزید وضاحت سورة رحمان میں لاتنفذون الا بسلطن ‘ کے تحت آئے گی۔