Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 43

  1. لَا جَرَمَ اَنَّمَا تَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ لَیْسَ لَهٗ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَا فِی الْاٰخِرَةِ وَ اَنَّ مَرَدَّنَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَنَّ الْمُسْرِفِیْنَ هُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ﴿43﴾

    1. لَا جَرَمَکوئی شک نہیں
    2. اَنَّمَایہ کہ
    3. تَدْعُوْنَنِيْٓتم بلاتے ہو مجھے
    4. اِلَيْهِاس کی طرف
    5. لَيْسَ لَهٗنہیں اس کے لئے
    6. دَعْوَةٌبلانا
    7. فِي الدُّنْيَادنیا میں
    8. وَلَااور نہ
    9. فِي الْاٰخِرَةِآخرت میں
    10. وَاَنَّاور یہ کہ
    11. مَرَدَّنَآپھرجانا ہے ہمیں
    12. اِلَى اللّٰهِاللہ کی طرف
    13. وَاَنَّاور یہ کہ
    14. الْمُسْرِفِيْنَحد سے بڑھنے والے
    15. هُمْوہ۔ وہی
    16. اَصْحٰبُ النَّارِآگ والے (جہنمی)
Translation · Tadabbur-e-Quran
حقیقت یہ ہے کہ جن کی تم مجھے دعوت دے رہے ہو ان کی کوئی آواز نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں۔ اور ہم سب کی واپسی اللہ ہی کی طرف ہونی ہے اور جو حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں وہی دوزخی ہوں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’ لاجرم ‘ کے معنی ہوں گے ’ لا بدٗ۔ لامحالہ ‘ یہ حقیقت ہے۔ اس میں کسی بحث یا کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اسی قوم سے ترقی کر کے یہ قسم کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ ’ لیس لہ دعوۃ ‘ میں فعل کی نفی اس کے فائدہ کی نفی کے پہلو سے ہے۔ یعنی ان کو پکارنے کا کوئی فائدہ نہ اس دنا میں ہے، نہ آخرت میں ہوگا۔ اس حقیقت کی وضاحت قرآن کے دوسرے مقامات میں ہوچکی ہے۔ خلاصہ ٔ بحث مرد مومن نے اوپر کی دلیل قائم کرنے کے بعد خلاصہ ٔ بحث ان کے سامنے یہ رکھا کہ یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ آپ لوگ مجھے جن بتوں کی عبادت کی دعوت دے رہے ہیں وہ محض آپ کے وہم کی ایجاد ہیں۔ ان سے دعا و فریاد کا کوئی فائدہ نہ اس جہان میں ہے اور نہ آخرت میں ہوگا۔ اس دنیا میں ہمیں جو کچھ ملتا ہے خدا سے ملتا ہے اور آخرت میں ہم سب کی واپسی خدا ہی کی طرف ہونی ہے۔ ان فرضی دیویوں دیوتائوں میں سے کوئی مولیٰ و مرجع بننے والا نہیں ہے۔ ’ وان المسرفین ھم اصحب النار۔ ’ مسرفین ‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے شرک کا ارتکاب کر کے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے جس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہوں گے ان کا کوئی سفارشی نہیں ہوگا بلکہ اس قسم کے سارے لوگ جہنم میں پڑیں گے۔