Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 56

  1. اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ۙ اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِ١ۚ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ﴿56﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    3. يُجَادِلُوْنَجھگڑتے ہیں
    4. فِيْٓمیں
    5. اٰيٰتِ اللّٰهِاللہ کی آیات
    6. بِغَيْرِبغیر
    7. سُلْطٰنٍکسی سند
    8. اَتٰىهُمْ ۙان کے پاس آئی ہو
    9. اِنْنہیں
    10. فِيْمیں
    11. صُدُوْرِهِمْان کے سینے (دل)
    12. اِلَّاسوائے
    13. كِبْرٌتکبر
    14. مَّا هُمْنہیں وہ
    15. بِبَالِغِيْهِ ۚاس تک پہنچنے والے
    16. فَاسْتَعِذْپس آپ پناہ چاہیں
    17. بِاللّٰهِ ۭاللہ کی
    18. اِنَّهٗبیشک وہ
    19. هُوَ السَّمِيْعُوہی سننے والا
    20. الْبَصِيْرُدیکھنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو لوگ اللہ کی آیات کے باب میں، بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو، کٹ حجتی کر رہے ہیں، ان کے دلوں میں پس ایک گھمنڈ سمایا ہوا ہے جس میں وہ کبھی بامراد ہونے والے نہیں ہیں تو تم اللہ کی پناہ مانگو، وہی حقیقی سننے دیکھنے والا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
4۔ آگے کا مضمون… آیات : 56۔ 85 آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جس میں آنحضرت ﷺ کو صبر و استقامت کی تلقین کے ساتھ نہایت واضح الفاظ میں فتح و نصرت کی بشارت اور قریش کے لیڈروں کو دنیا اور آخرت دونوں میں عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس بشارت اور وعید کے بیچ بیچ میں توحید اور قیامت کے ان آفاقی، انفسی اور اخلاقی دلائل کا حوالہ ہے جن پر یہ بشارت اور یہ وعید مبنی ہے۔ 5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت منکرین کے انکار کی اصل علت یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آج جو لوگ، بغیر کسی دلیل و سند کے، اللہ کی آیات کے باب میں تم سے جھگڑ رہے ہیں ان کی پروا نہ کرو۔ ’ آیات ‘ سے مراد توحید و آخرت کی وہ دلیلیں ہیں جو اوپر مختلف اسلوبوں سے مذکور ہوئیں۔ فرمایا کہ ان لوگوں کی مخالفت کا سبب یہ نہیں ہے کہ ان سے حق مخفی ہے یا ان کے پاس اس کے خلاف کوئی دلیل ہے بلکہ یہ صرف اس وجہ سے مخالفت کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے تمہاری بات تسلیم کرلی تو یہ تمہاری برتری تسلیم کرلینا ہے جس سے ان کا پندار سیادت مجروح ہوتا ہے۔ منکرین کے علی الرغم غلبہ حق کی بشارت ’ ما ھم ببالغیہ ‘۔ فرمایا کہ اپنے اس پندار میں یہ بامراد ہونے والے نہیں ہیں، اب فیصلہ تقدیر یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں اس کلمہ حق کا بول بالا کرے گا اور تمہارے یہ مخالفین دنیا اور آخرت دونوں میں رسوا ہوں گے۔ مخالفین کے شر سے محفوظ رکھنے کی بشارت ’ فاستعذ باللہ ط انہ ھو السمیع البصر ‘۔ یعنی اپنے اس غرور کے سبب سے یہ تمہارے در پے آزار بھی ہوں گے لیکن تم اس کی پروانہ کرو بلکہ اپنے آپ کو اپنے اللہ کی پناہ میں دو اور اطمینان رکھو کہ اصل سننے دیکھنے والا ہی ہے۔ وہی تم کو ان متکبروں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔