Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 58

  1. وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ لَا الْمُسِیْٓءُ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ﴿58﴾

    1. وَمَا يَسْتَوِياور برابر نہیں
    2. الْاَعْمٰىنابینا
    3. وَالْبَصِيْرُاور بینا
    4. وَالَّذِيْنَاور جو لوگ
    5. اٰمَنُوْاایمان لائے
    6. وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کئے
    7. الصّٰلِحٰتِاچھے
    8. وَلَا الْمُسِيْٓءُ ۭاور نہ بدکار
    9. قَلِيْلًابہت کم
    10. مَّاجو
    11. تَتَذَكَّرُوْنَتم غور و فکر کرتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اندھے اور بینا اور جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور وہ جو برائی کرے والے ہیں دونوں یکساں نہیں ہو سکتے۔ تم لوگ بہت کم سوچتے ہو !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آخرت کی اخلاقی ضرورت واضح فرمائی کہ اگر آخرت نہیں ہے، جیسا کہ یہ لوگ گمان کئے بیٹھے ہیں، تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے۔ اس کے خالق کے نزدیک عقل و دل کے اندھے اور عقل و بصیرت رکھنے والے دونوں یکساں ہیں اور نیکوکار اور بدکار میں اس کے نزدیک کوئی فرق ہی نہیں ہے۔ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ اس سے خدا کی صفات عدل، حکمت، رحم اور قدرت کی نفی ہوجاتی ہے جو دوسرے الفاظ میں خود خدا کی نفی کے ہم معنی ہے۔ اس وجہ سے قیامت کا آنا لازمی ہے۔ اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ اکثر لوگ اس بدیہی حقیقت پر بھی ایمان نہیں لا رہے ہیں۔ ’ اعمر ‘ یہاں عقل و دل کے اندھوں کے لئے استعمال ہوا ہے اور ’ بصیر ‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو بصارت کے ساتھ بصیرت رکھنے والے اور اللہ کی نشانیوں پر غور کرنے والے ہیں۔ قلیلا ما تتذکرون سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہ حقائق ایسے مخفی نہیں ہیں کہ کسی کی سمجھ میں آ ہی نہ سکیں۔ لیکن جو لوگ سرے سے اپنے سمع و بصر سے کام ہی نہیں لینا چاہتے ان کا کیا علاج۔