تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 7
اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ﴿7﴾
- اَلَّذِيْنَوہ جو (فرشتے)
- يَحْمِلُوْنَاٹھائے ہوئے ہیں
- الْعَرْشَعرش
- وَمَنْ حَوْلَهٗاور جو اسکے ارد گرد
- يُسَبِّحُوْنَوہ پاکیزگی بیان کرتے ہیں
- بِحَمْدِتعریف کے ساتھ
- رَبِّهِمْاپنے رب کی
- وَيُؤْمِنُوْنَاور ایمان لاتے ہیں
- بِهٖاس پر
- وَيَسْتَغْفِرُوْنَاور مغفرت مانگتے ہیں
- لِلَّذِيْنَان کے لئے جو
- اٰمَنُوْا ۚوہ ایمان لائے
- رَبَّنَااے ہمارے رب
- وَسِعْتَسمولیا ہے
- كُلَّ شَيْءٍہر شے
- رَّحْمَةًرحمت
- وَّعِلْمًااور علم
- فَاغْفِرْسو تو بخشدے
- لِلَّذِيْنَوہ لوگ جنہوں نے
- تَابُوْاتوبہ کی
- وَاتَّبَعُوْااور انہوں نے پیروی کی
- سَبِيْلَكَتیرا راستہ
- وَقِهِمْانہیں بچالے
- عَذَابَعذاب
- الْجَحِيْمِجہنم
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے اردگرد ہیں وہ اپنے رب کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، اس کی حمد کے ساتھ، اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں جو ایمان لائے ہیں۔ اے ہمارے رب، تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے تو ان لوگوں کی مغفرت فرما جو توبہ کریں اور تیرے راستہ کی پیروی کریں اور ان کو عذاب جہنم سے بچا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فرشتوں کی حیثیت کی وضاحت
اب یہ فرمایا کہ اگر ان لوگوں کو فرشتوں کی سفارش اور ان کی مدد پر بھروسہ ہے اور ان کے بل پر یہ پیغمبر کے انذار کی تکذیب کر رہے ہیں تو ان کا حال یہ لوگ کان کھول کر سن لیں کہ عام فرشتے تو درکنار، خدا کے جو خاص مقرب فرشتے ہیں یعنی حاملین عرش اور ان کے زمرہ سے تعلق رکھنے والے، وہ بھی برابر خدا کی خشیت سے لرزاں و ترساں اور اس کی حمد و تسبیح میں سرگرم رہتے ہیں۔
”ویومنون بہ ‘ وہ الوہیت کے کسی زعم میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ خدا کے بندوں کی طرح اس پر ایمان رکھنے والے ہیں۔
ویستغفرون للذین اٰمنوا۔ اور ان لوگوں کے لئے جو خدا پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت دونوں کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ گویا یہی استغفار ان کی سفارش ہے اور یہ اہل ایمان کے لئے مخصوص ہے۔
فرشتوں کی اس خشیت اور اہل ایمان کے لئے ان کے استغفار کا ذکر سابق سورة کی آخری آیت میں بھی گزر چکا ہے اور سورة شوریٰ میں بھی بدیں الفاظ آیا ہے۔
عر بی (شوریٰ : 5)
اور خدا کی خشیت و جلال سے قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی اس کی حمد کے ساتھ تسبیح اور زمین والوں کے لئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔
فرشتوں کی اس خشیت کے بیان سے مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں نے ان کی نسبت یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ خدا کے اتنے چہیتے اور اس پر اتنا زورو اثر رکھنے والے ہیں کہ اپنے پجاریوں پر وہ کسی حال میں بھی خدا کو ہاتھ ڈالنے نہیں دیں گے وہ اس حقیقت سے باخبر ہوجائیں کہ فرشتے اس قسم کے کسی زعم میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ وہ ہر وقت خدا کے آگے سرفگندہ اور اس کے قہر و غضب سے پناہ مانگتے رہنے والے ہیں۔
فرشتوں کی سفارش کی نوعیت
’ ربنا وسعت کل شیء رحمۃ و علما نا غفر للذین شابدا و اتبعوا سبیلا و قھم عذاب الجحیم ‘ یہ فرشتوں کے استغفار کی وضاحت ہے کہ وہ کوئی بات اپنے رب سے ناز و تدلل کے ساتھ نہیں کرتے بلکہ وہ معاملہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے علم ہی کے حوالہ کرتے ہیں کہ تیری رحمت بھی ہر چیز پر حاوی ہے اور تیرا علم بھی ہر چیز کو محیط ہے اس وجہ سے تو ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جو تیری رحمت اور علم کے تقاضوں کے مطابق ہوگا۔ اس عقیدے کے ساتھ وہ ان لوگوں کے لئے مغفرت کی درخواست کرتے ہیں جو اپنی غلطیوں سے توبہ کرلیں اور ان کے اصلاح کر کے اللہ کے رستہ کے پیرو بن جائیں۔ مطلب یہ ہے کہ فرشتے دعا اور سفارش تو برابر کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی دعا اور سفارش ان لوگوں کے لئے ہے جو اپنی جاہلیت کی بدعقیدگی و بدعملی سے توبہ کر کے اللہ کے رستہ کے پیرو بن جائیں نہ کہ ان لوگوں کے لئے جو اس کے رسول اور اس کے دین کے دشمن ہیں۔
فرشتے اس حقیقت سے واقف ہیں کہ جنت توبہ اور اصلاح سے حاصل ہو گی
’ ربنا وادخلھم جنت عدن ن التی وعدتھم دمن صلح من ابائھم وازواجہم و ذریتھم ط انک انت العزیز العظیم۔ یہ اسی استغفار کی مزید تفصیل ہے کہ وہ ان لوگوں کے لئے جنت کی دعا کرتے ہیں جو توبہ اور اصلاح کر کے اس کا حق پیدا کرلیتے ہیں اور جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ نیز وہ ان کے آباء، ازواج اور ذریات میں سے بھی صرف ان لوگوں کے لئے دعا کرتے ہیں جو توبہ و اصلاح سے اس کے لئے استحقاق پیدا کرلیں۔ مطلب یہ ہے کہ فرشتے اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ مجرد کسی کے طفیل اور کسی کے نسب و خاندان کی بنا پر کسی کو جنت حاصل ہونے والی نہیں ہے بلکہ جس کو بھی حاصل ہوگی اس کے استحقاق اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوگی۔
’ انک انت العزیز الحکیم ‘ یہ بعینہ وہی کلمہ ٔ شفاعت ہے جو مائدہ کی آیت 120 میں حضرت مسیح ؑ کی زبان سے نقل ہوا ہے۔ وہاں اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔ یہ تفویض الی اللہ کا کلمہ ہے یعنی تو جو چاہے کرسکتا ہے لیکن ساتھ ہی تو حکیم بھی ہے اس وجہ سے وہی کرے گا جو عدل و حکمت پر مبنی ہوگا۔ فرشتوں کا یہی استغفار درحقیقت اہل زمین کے لئے سفارش ہے اور اس کی نوعیت یہی ہے جو قرآن نے بیان فرمائی ہے تاکہ وہ جو جاہلوں نے سمجھی ہے۔
”وقھم السیات ط و من تق السیات یومئذ فقد رحمتہ ط و ذلک ھو الفوز العظیم ‘ لفظ سیات، یہاں نتائج سیات کے معنی میں ہے۔ عمل اور نتیجہ کے لروز کو ظاہر کرنے کے لئے بعض اوقات فعل نتیجہ ٔ فعل کے مفہوم میں بولتے ہیں یعنی فرشتے اہل ایمان کے لئے یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے رب، تو ان کو بدیوں کے نتائج سے محفوظ رکھ۔ یعنی ان کے گناہوں کو جھاڑ دے کہ وہ ان کے شر سے محفوظ رہیں۔
’ ومن تق السیات…الآیۃ ‘ فرشتوں کے اس فقرے سے روز حساب و کتاب کی ہو لنا کی کا اندازہ ہو رہا ہے کہ ان کی نگاہوں میں اصلی خوش قسمت وہ ہے جس کو اللہ نے اس دن اس کے گناہوں کے نتائج سے محفوظ رکھا۔ ان کے نزدیک سب سے بڑی کامیابی یہی ہے اور اصل خوش بخت وہی ہے جس نے یہ کامیابی حاصل کی۔
فرشتوں کے اس استغفار کے بیان سے مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ واضح کرنا ہے کہ فرشتے اہل زمین کے لئے سفارش تو ہر وقت کر رہے ہیں لیکن اس کی سفارش کی نوعیت یہ ہے جو بیان ہوئی ہے نہ کہ وہ جس کے بل پر لوگ آخرت سے نچنت بیٹھے ہیں۔ اور جب ان کو اصل حقیقت کی یاددہانی کی جاتی ہے تو مناظرہ و مجادلہ کے لئے آستینیں چڑھا لیتے ہیں۔