Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 82

  1. اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿82﴾

    1. اَفَلَمْپس کیا نہیں
    2. يَسِيْرُوْاوہ چلے پھرے
    3. فِي الْاَرْضِزمین میں
    4. فَيَنْظُرُوْاتو وہ دیکھتے
    5. كَيْفَ كَانَکیسا ہوا
    6. عَاقِبَةُ الَّذِيْنَانجام ان لوگوں کا جو
    7. مِنْ قَبْلِهِمْ ۭان سے قبل
    8. كَانُوْٓا اَكْثَرَوہ زیادہ تھے
    9. مِنْهُمْان سے
    10. وَاَشَدَّاور بہت زیادہ
    11. قُوَّةً وَّاٰثَارًاقوت اور آثار
    12. فِي الْاَرْضِزمین میں
    13. فَمَآ اَغْنٰىسو نہ کام آیا
    14. عَنْهُمْان کے
    15. مَّاجو
    16. كَانُوْا يَكْسِبُوْنَوہ کماتے (کرتے) تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ وہ ان سے زیادہ تھے زمین میں اپنے آثار کے اعتبار سے اور بڑھ چڑھ کر تھے اپنی قوت و حمعیت کے لحاظ سے تو ان کے یہ سارے کارنامے ان کے کچھ کام نہ آئے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ عذاب کا مطالبہ کرنے والوں کو پچھلی قوموں کی تاریخ کی طرف توجہ دلائی کہ اگر خدا کی ربوبیت کے آثار ان کو نظر نہیں آتے تو کیا انہوں نے اپنے ملک کی بھی سیاحت نہیں کی کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے کی ان قوموں کا کیا انجام ہوچکا ہے جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی، اگرچہ وہ اپنی قوت و جمعیت کے اعتبار سے ان سے کہیں زیادہ طاقتور اور اپنے تمدنی و تعمیری کارناموں کے لحاظ سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں لیکن جب اللہ کا عذاب آیا تو ان چیزوں میں سے کوئی چیز بھی ان کے کام آنے والی نہ بنی جن کا اندوختہ وہ فراہم کرتے رہے تھے۔ لفظ ’ اثار ‘ کا تعلق ’ اکثر ‘ سے ہے۔ یہ عاد و تمور کے ان تعمیری آثار کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر قرآن کے دوسرے مقامات میں ہوچکا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب قوم اخلاقی زوال میں مبتلا ہوجاتی ہے تو مجرد اپنی عددی اکثریت اور اپنے تمدنی آثار کے بل پر زندہ نہیں رہ سکتی۔