Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 83

  1. فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿83﴾

    1. فَلَمَّاپھر جب
    2. جَآءَتْهُمْان کے پاس آئے
    3. رُسُلُهُمْان کے رسول
    4. بِالْبَيِّنٰتِکھلی نشانیوں کیساتھ
    5. فَرِحُوْاخوش ہوئے (اترانے لگے)
    6. بِمَااس پر جو
    7. عِنْدَهُمْان کے پاس
    8. مِّنَ الْعِلْمِعلم سے
    9. وَحَاقَ بِهِمْاور گھیر لیا انہیں
    10. مَّا كَانُوْاجو وہ کرتے تھے
    11. بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَاس کا مذاق اڑاتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس جب ان کے پاس ان کے رسول نہایت واضح دلیلوں کے ساتھ آئے تو وہ اپنے اسی علم پر نازاں رہے جو ان کے اپنے پاس تھا اور ان کو گھیر لیا اس عذاب نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فرمایا کہ جب اللہ کے رسول ان قوموں کے پاس توحید، آخرت اور جزاء و سزا کی نہایت کھلی کھلی دلیلیں لے کر آئے تو انہوں نے ان کی باتوں کا مذاق اڑایا اور اپنے علم پر نازاں رہے۔ بالآخر اس عذاب نے ان کو گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ یعنی اپنے تھوڑے سے علم کو اپنی تنگ ظرفی کے سبب سے انہوں نے بہت بڑی چیز سمجھا اور یہ خیال کرلیا کہ جو کچھ وہ دیکھتے ہیں بس دنیا کل اتنی ہی ہے۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ ع ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں