تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 10
وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِهَا وَ بٰرَكَ فِیْهَا وَ قَدَّرَ فِیْهَاۤ اَقْوَاتَهَا فِیْۤ اَرْبَعَةِ اَیَّامٍ١ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیْنَ﴿10﴾
- وَجَعَلَاور اس نے بنایا
- فِيْهَااس میں
- رَوَاسِيَپہاڑ (جمع)
- مِنْ فَوْقِهَااسی کے اوپر
- وَبٰرَكَاور برکت رکھی
- فِيْهَااس میں
- وَقَدَّرَاور مقرر کیں
- فِيْهَآاس میں
- اَقْوَاتَهَاان کی خوراکیں
- فِيْٓ اَرْبَعَةِ اَيَّامٍ ۭچار دنوں میں
- سَوَآءًیکساں
- لِّلسَّآئِلِيْنَتمام سوال کرنیوالوں کے لئے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس نے اس زمین میں اس کے اوپر سے پہاڑ گاڑ دیئے اور اس میں برکتیں رکھیں اور اس میں اس کے غذائی ذخیرے ودیعت کئے سب ضرورت مندوں کے لئے یکساں طور پر۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
زمین اور اس کے بعض آثار
یہ زمین کی برکات کی تفصیل بیان ہو رہی ہے کہ اللہ ہی نے اس کے اندر پہاڑ گاڑے۔ ان پہاڑوں کے گاڑنے کی ایک حکمت دوسرے مقام میں بیان فرمائی ہے کہ یہ زمین کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں ورنہ اندیشہ ہے کہ یہ تمام مخلوقات سمیت کسی طرف کو لڑھک جائے۔ ’ من فوقھا ‘ کے الفاظ سے مقصود ان کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی یہ نشانیاں کچھ ڈھکی چھپی نہیں ہیں بلکہ یہ زمین کے اوپر ہی موجود ہیں جن کو ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔ سورة غاشیہ میں بھی پہاڑوں کی طرف اسی پہلو سے توجہ دلائی گئی ہے : ’ افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت وقف والی السماء کیف رفعت وقف قوالی الجبال کیف نصبت وقف والی الارض کیف سطحت (الغاشیۃ : 17۔ 20) (کیا وہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح ان کی خلقت ہوئی ہے اور آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح اس کو بلند کیا گیا ہے اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح وہ گاڑے گئے ہیں اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح وہ مطح کی گئی ہے ! !)
’ وبارک فیھا و قدرنیھا اقواتھا ‘ یعنی اس میں برکتیں رکھیں اور اس میں تمام قسم کے غذائی ذخیرے ودیعت کئے۔
زمین اور اس کی برکات
اسی برکت کا کرشمہ ہے کہ یہ ہر قسم کی نباتات اگاتی ہے جن کے پھل اور پھول انسان اور دوسری مخلوقات کے کام آتے ہیں، یہ اسی کا فیض ہے کہ ایک دانہ انسان بوتا ہے اور زمین سینکڑوں دانوں کی شکل میں اس کا حاصل اس کو واپس کرتی ہے۔ ایک گٹھلی یا ایک قلم آدمی زمین میں لگاتا ہے اور ایک مدت دراز تک اس کا پھل وہ اور اس کے اخلاف کھاتے ہیں۔ علاوہ بریں یہ اسی برکت کا ثمرہ ہے کہ انسان اپنی سائنس کے ذریعہ سے اس کے جتنے پرت الٹتا جاتا ہے اتنے ہی اس کے اندر سے خزانے پر خزانے نکلتے آ رہے ہیں اور صاف نظر آتا ہے کہ انسان کی سائنس تھک جائے گی لیکن زمین کے خزانے کم ہونے والے نہیں ہیں۔
’ وقدر فیھا اقواتھا ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کی آغوش میں جتنی مخلوقات ڈالی ہیں یا ڈالے گا اسی حساب سے اس کے اندر غذائی ذخائر بھی مقدر کردیئے ہیں۔ یہ ذخائر قیامت تک انسان کی سعی و تدبیر سے برآمد ہوتے رہیں گے۔ ہر مخلوق جو اس زمین پر پیدا ہوگی اس کے حصے کا رزق اللہ تعالیٰ نے زمین کو تحویل میں دے رکھا ہے اور اس کے برآمد کرنے کی تدبیر بھی انسان کو الہام کر رکھی ہے۔
ایام کی مجموعی تعداد جو آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں لگے
’ فی اربعۃ ایام ‘۔ یہ سارے کام چار دنوں میں انجام پائے۔ یعنی زمین کی خلقت کے دن اور اس کے اندر پہاڑ گاڑنے اور تقدیر اقوات کے دن سب ملا کر چار دن ہوئے۔ مذکورہ کاموں میں جتنے دن صرف ہوئے۔ یہ آخر میں ان سب کو جمع کردیا ہے۔
اللہ نے ہر قسم کی مخلوقات کے لئے ان کے جبلی تقاضوں کے مطابق غذا فراہم کی ہے
’ سوآء للسائلین ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جتنی قسم کی مخلوقات پیدا کی ہیں اور ان کی بقا کے لئے جس قسم کی غذا کی احتیاج ان کے اندر رکھی ہے، ان سب کی جبلی احتیاج کے اعتبار سے یہ غذائی ذخیرے ودیعت فرمائے ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ کچھ مخلوقات تو وجود میں آگئی ہوں لیکن ان کی پرورش کے لئے جس غذا کی ضرورت ہے وہ وجود میں نہ آئی ہو۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر، زمین کی تہوں میں، سمندروں کی تاریکیوں میں، جہاں کہیں بھی کوئی چھوٹی یا بڑی مخلوق موجود ہے اس کے گرد و پیش میں اس کا طبعی رزق موجود ہے۔ ایک بکری گھاس کھا کر زندہ رہتی ہے اس کے لئے اللہ نے گھاس پیدا کی ہے۔ ایک شیر گوشت سے زندہ رہتا ہے اس کو اللہ نے شکار کے اسلحہ بھی دیئے ہیں اور شکار کے لئے جانور بھی پیدا کئے ہیں۔ اور یہ بات بھی صاف نظر آتی ہے کہ کسی کو بھی اپنی ماکیتاج سے زبردستی مناسبت نہیں پیدا کرنی پڑی ہے بلکہ جس کو جو کچھ بھی ملا ہے اس کے جبلی تقاضوں کے مطابق ملا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے کہ یہ اللہ ہی کی شان ہو سکتی ہے کہ وہ اتنی بیشمار قسم کی مخلوقات پیدا کرے اور پھر ہر جنس دنوع کے جبلی تقاضوں کے متعلق ان کے لئے غذا فراہم کرے۔ خدا کے سوا اور کون ہے جو اس پر قادر ہو سکے ؟
لفظ ’ سوال ‘ ایک خاص مفہوم میں
لفظ ’ سوال ‘ یہاں اسی معنی میں ہے جس معنی میں سورة ابراہیم کی آیت 37 میں ہے : واٰتکم من کل ما سالتموہ ‘ (اور تم کو ان سب میں سے دیا جن کے تم محتاج ہوئے) یعنی تمہارے اندر اس نے جن چیزوں کی احتیاج رکھی وہ چیزیں بھی مہیا فرمائیں۔
اشتراکیت پسندوں کا ایک بےبنیاد استدلال
زیر بحث ٹکڑے سے اشتراکی حضرات نے غذائی مساوات کا ثبوت فراہم کرنے کی جو کوشش کی ہے اس کی تردید کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نے آیت کی صحیح تاویل واضح کردی اور یہی ہماری ذمہ داری ہے۔ لوگوں کے اندر صحیح بات سمجھنے اور اس کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کردینا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے اختیار میں نہیں ہے۔