Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 11

  1. ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ وَ هِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَ لِلْاَرْضِ ائْتِیَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا١ؕ قَالَتَاۤ اَتَیْنَا طَآئِعِیْنَ﴿11﴾

    1. ثُمَّپھر
    2. اسْتَوٰٓىاس نے توجہ فرمائی
    3. اِلَىطرف
    4. السَّمَآءِآسمان
    5. وَهِىَاور وہ
    6. دُخَانٌایک دھواں
    7. فَقَالَتو اس نے کہا
    8. لَهَااس سے
    9. وَلِلْاَرْضِاور زمین سے
    10. ائْتِيَاتم دونوں آؤ
    11. طَوْعًاخوشی سے
    12. اَوْ كَرْهًا ۭیا ناخوشی سے
    13. قَالَتَآان دونوں نے کہا
    14. اَتَيْنَاہم دونوں آئے (حاضر ہیں)
    15. طَآئِعِيْنَخوشی سے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ سب ملا کر چار دنوں میں۔ پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی، اور وہ اس وقت دھوئیں کی شکل میں تھا، پس اس کو اور زمین کو حکم دیا کہ تم ہمارے احکام کی تعمیل کرو، طوعاً یا کرہاً ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
پہلے آسمان پیدا ہوا یا زمین ؟ ’ استوی الی الشیء ‘ کے معنی ہیں اس کی طرف توجہ کی۔ ’ اس کا قصد فرمایا ‘ اس کا ارادہ کیا۔ فرمایا کہ تخلیق زمین کے ان مراحل کے بعد آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور اس وقت وہ دھوئیں کی شکل میں تھا۔ دھوئیں، سے مراد غبار ہے یا سائنسدانوں کی اصطلاح میں اس کو نیبولا (NEBULA) یا سحابیے کہہ لیجیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت آسمان اپنی ایک ابتدائی اور ناتمام شکل میں موجود تھا۔ اس کی یہ شکل ظاہر ہے کہ انہی دو دنوں میں وجود پذیر ہوئی ہوگی جن میں زمین کی ابتدائی خلقت کا مرحلہ طے پایا ہے اس وجہ سے اس ’ استعاد ‘ سے مقصود وہ توجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے آسمان کو ایک تکمیلی شکل دینے کے لئے فرمائی۔ چناچہ آگے کی آیات سے واضح ہے کہ اس مرحلہ میں اللہ تعالیٰ نے آسمان کو سات آسمانوں کی صورت میں مشکل کیا اور نظام کائنات میں ہر آسمان کا جو فریضہ ہے اس کا اس کو پابند کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین دونوں کی خلقت کا آغاز تو ایک ہی ساتھ ہوا ہے لیکن جس طرح ایک وسیع الاطراف عمارت کے مختلف حصوں میں تعمیر کے مصالح کے تحت کبھی اس کے کسی گوشہ میں کام ہوتا ہے کبھی کسی گوشہ میں اسی طرح آسمان و زمین کی تعمیر کا کام بھی ہوا ہے اس وجہ سے یہ سوال غیر ضروری ہے کہ پہلے زمین پیدا ہوئی ہے یا آسمان ؟ ایک مکان کی پلاننگ لازماً ایک ہی وقت میں ہوتی ہے۔ اس کے ہر حصہ کی تعمیر کے لئے ضروری میٹریل بھی فراہم کرلیا جاتا ہے۔ کام کا آغاز اگرچہ بنیادوں اور دیواروں سے ہوتا ہے لیکن ابھی ان کی تکمیل کا مرحلہ باقی ہی ہوتا ہے کہ چھت کا کام شروع ہوجاتا ہے۔ چھت سے متعلق ابھی کچھ مزید کام باقی ہی رہتے ہیں کہ دیواروں کے پلاستر کا کام سامنے آجاتا ہے۔ اس سے فارغ ہوئے کہ چھت کا بقیہ کام تکمیل کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس سے فراغت حاصل ہوئی تو فرش کی تکمیل کی طرف توجہ ہوئی۔ غرض ایک مکان کی تعمیر کا معاملہ ایک مرکب اور مجموعی نوعیت رکھتا ہے اور اسی حیثیت سے اس پر غور کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ اس چھوٹی سی مثال کو آسمان و زمین سے کوئی نسبت نہیں ہے لیکن بات کو سمجھنے کے لئے اسی پر آسمان و زمین کو بھی قیاس کرنا پڑے گا اس لئے کہ قرآن نے ان دونوں کا ذکر ایک مکان ہی کی نوعیت سے کیا ہے۔ کبھی آسمان کا ذکر مقدم کیا ہے کہیں زمین کا۔ کہیں یہ خیال گزرتا ہے کہ چھت پہلے بنی ہے اور کہیں یہ شبہ دل میں پیدا ہوتا ہے کہ چھت سے پہلے فرش کی تکمیل ہوئی ہے حالانکہ اس قسم کے شبہات محض اس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ آسمان و زمین دونوں کو ایک مجموعہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ان کو الگ الگ دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں ان اشارات پر قناعت کیجیے۔ انشاء اللہ سورة نازعات کی آیات 30۔ 33 کے تحت ہم اس کی مزید وضاحت کریں گے۔ اس کائنات کی ہر چیز اپنی جبلت کے اعتبار سے مسلم ہے ’ فقال لھاد للارض ائتیا طوعا اوکرھا ط قالت اتینا طآئعین ‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین دونوں کو وجود بخشنے کے بعد یہ ہدایت فرمائی کہ تم دونوں کو بہرحال میری اطاعت کرنی ہے، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم رضامندانہ اطاعت کے لئے حاضر ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کائنات کی جو چیزیں جبلی طور پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتی ہیں ان کی اطاعت بھی مجبورانہ نہیں بلکہ رضامندانہ ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی جبلت اسلام ہی کے سانچہ پر بنائی ہے۔ گویا اس کائنات کی ہر چیز اپنی جبلت کے لحاظ سے مسلم ہے۔ فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی جو نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ خدا کی فرمانبرداری پر مجبور ہیں بلکہ ان کی فطرت اللہ تعالیٰ نے اسلام کے رنگ میں اس طرح رنگی ہے کہ ان سے کبھی اس کی خلاف ورزی صادر نہیں ہو سکتی۔ ’ ائتیا طوعا ‘ اسی طرح کا اسلوب ہے جس طرح حضرت سلیمان ؑ نے ملکہ سباکو اپنے نامہ میں لکھا تھا کہ ’ واتونی مسلمین ‘ جن لوگوں نے اس کے معنی اس سے الگ لئے ہیں انہوں نے اسلوب زبان سے ناواقفیت کے باعث بالکل غلط معنی لئے ہیں۔ جمادات بھی اپنے رب کے احکام کے سمجھنے اور ان کی تعمیل کے معاملہ میں عاقل ہیں اس آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس کائنات کی جن چیزوں کو ہم لایعقل جمادات کے درجہ میں رکھتے ہیں وہ بھی اپنے رب کے حکموں کو سمجھنے، اس کی باتوں کا جواب دینے، اس کے ارشادات کی تعمیل کرنے اور اس کی تحمید و تسبیح کے معاملہ میں پوری طرح عاقل ہیں۔ چناچہ یہاں آسمان و زمین کی زبان سے جو قول نقل ہوا ہے اس میں بھی لفظ ’ طآئعین ‘ آیا ہے جو ذوی العقول اور ذی ارادہ چیزوں ہی کے لئے موزوں ہے۔ اگر ہم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے یا ان کو خطاب نہیں کرسکتے تو اس کی بنا پر ہم کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہم ان کو بالکل لایعقل خیال کریں بلکہ یہ محض ہمارے علم کی نارسائی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کائنات کے ایک ایک ذرے کی تحمید و تسبیح کو سمجھتا ہے، اور ہر ذرہ اس کے حکموں کو سمجھ کر اس کی تعمیل کرتا ہے۔