Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 9

  1. قُلْ اَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًا١ؕ ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۚ﴿9﴾

    1. قُلْفرمادیں
    2. اَئِنَّكُمْکیا تم
    3. لَتَكْفُرُوْنَانکار کرتے ہو
    4. بِالَّذِيْاس کا جس نے
    5. خَلَقَپیدا کیا
    6. الْاَرْضَزمین
    7. فِيْ يَوْمَيْنِدودنوں میں
    8. وَتَجْعَلُوْنَاور تم ٹھہراتے ہو
    9. لَهٗٓاس کے
    10. اَنْدَادًا ۭشریک (جمع)
    11. ذٰلِكَیہ
    12. رَبُّرب
    13. الْعٰلَمِيْنَسارے جہانوں کا
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان سے پوچھو، کیا تم لوگ اس ہستی کا انکار کر رہے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو، وہی تو تمام عالم کا خداوند ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نظام کائنات میں توحید کے شواہد اب یہ آسمان و زمین کے نظام کے اندر خالق کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور اس کی توحید کے جو آثارنمایاں ہیں ان کی طرف توجہ دلائی ہے اور آگے آیت 12 میں اس بحث کا خلاصہ یہ نکالا ہے کہ ’ ذلک تقدیر العزیز العلیم ‘ یعنی جو شخص اس کائنات کے ان پہلوئوں پر غور کرے گا وہ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہے کہ یہ نہ تو ایک حادثہ کے طور پر آپ سے آپ وجود میں آگئی ہے، نہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشا ہے اور نہ یہ مختلف دیویوں دیوتائوں کی بازی گاہ یا رزم گاہ ہے بلکہ یہ خدائے عزیز وعلیم کی منصوبہ بندی اور اس کے علم و حکمت سے وجود میں آئی ہے۔ یہ مضمون چار آیتوں میں پھیلا ہوا ہے اس وجہ سے قارئین کی سہولت کے لئے ہم پہلے آیتوں پر الگ الگ بحث کریں گے پھر آخر میں خلاصہ بحث پیش کر کے اس پر جو شبہات وارد ہوتے ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سلسلہ کی پہلی آیت کو لیجیے جو اوپر نقل ہوئی ہے۔ فرمایا کہ کیا تم لوگ اس ذات کا انکار کر رہے ہو جس نے زمین کو دونوں میں پیدا کیا اور اس کے شریک ٹھہراتے ہو، عالم کا خداوند تو وہی ہے ! خدا کو ماننا صرف وہ معتبر ہے جو اس کی تمام صفات کے اقرار کے ساتھ ہو یہاں پہلی قابل توجہ بات یہ ہے کہ خطاب اگرچہ مشرکین قریش سے ہے جو خدا کے منکر نہیں بلکہ اس کے شریک ٹھہرانے والے تھے لیکن قرآن نے ان کے اس شرک کو کفر (ائنکم لتکفرون) سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کو ماننا معتبر صرف وہ ہے جو اس کی تمام صفات اور ان کے تمام حقوق و مقتضیات کے ساتھ ہو۔ اگر کوئی شخص خدا کو مانے لیکن اس طرح مانے کہ اس سے خدا کی کل یا بعض صفات کی نفی ہو رہی ہو تو یہ ماننا دین میں معتبر نہیں ہے بلکہ یہ درحقیقت کفر ہی ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے شرک کو جگہ جگہ کفر سے تعبیر اور مشرکین کو صریح الفاظ میں یایھا الکفرون سے خطاب فرمایا ہے۔ اوپر ہم نے مشرکین کے منکر قیامت ہونے کی جو توجیہ کی ہے اس کو بھی پیش نظر رکھیے۔ یہ دونوں باتیں درحقیقت ایک ہی اصول پر مبنی ہیں۔ خدائی ایام ہمارے دنوں سے مختلف ہیں ’ فی یومین ‘ میں دو دنوں سے مراد یہ ہمارے دن نہیں ہیں بلکہ، جیسا کہ اس کے محل میں ہم وضاحت کرچکے ہیں، اس سے خدائی دن مراد ہی جو ہمارے شمار سے ہزار سال بلکہ بعض صورتوں میں پچاس ہزار سال کے برابر بھی ہوتے ہیں اس وجہ سے ان کو ادوار کے مفہوم میں لینا چاہئے۔ آسمانوں اور زمین کی خلقت کی تفصیل قرآن کے دوسرے مقامات میں آسمان و زمین اور ان کے متعلقات کی خلقت چھ دنوں میں بیان ہوئی ہے۔ یہاں اس مجموعی تعداد کی تفصیل بیان ہو رہی ہے کہ کس چیز کی خلقت پر کتنے دن صرف ہوئے ہیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین دو دنوں میں پیدا کی۔ اس کے اس کام میں کوئی اس کا ساجھی اور شریک و مددگار نہیں ہوا لیکن تم اس کے شریک ٹھہراتے ہو ! حالانکہ جو اس کا خالق ہے وہی اس زمین اور تمام عالم کا خداوند بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہی خداوند ہے بھی اور اسی کو ہونا چاہئے بھی اس لئے کہ وہی خالق ہے لیکن تمہاری خرد باختگی کا یہ حال ہے کہ تم نے عقل و فطرت کے بالکل خلاف اور بالکل بےدلیل اس کے شریک اور مدمقابل بنا رکھے ہیں ! یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین عرب آسمان و زمین بلکہ تمام چیزوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے لیکن اس کے باوجود اس کے شریک بھی ٹھہراتے تھے یہاں ان کے اسی مسلمہ پر دلیل قائم فرمائی ہے اور انداز ملامت کا ہے۔