Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 20

  1. حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَیْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿20﴾

    1. حَتّىٰٓیہاں تک کہ
    2. اِذَاجب
    3. مَا جَآءُوْهَاوہ آئیں گے اس کے پاس
    4. شَهِدَگواہی دیں گے
    5. عَلَيْهِمْان پر
    6. سَمْعُهُمْان کے کان
    7. وَاَبْصَارُهُمْاور ان کی آنکھیں
    8. وَجُلُوْدُهُمْاور انکی جلدیں (گوشت پوست)
    9. بِمَااس پر
    10. كَانُوْا يَعْمَلُوْنَجو وہ کرتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس حاضر ہوجائیں گے تو ان کے کان، اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کے رونگٹے ان پر ان باتوں کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے رہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فرمایا کہ جب دوزخ کے پاس سب اکٹھے ہو لیں گے تو یہ معلوم کرنے کے لئے کہ کون کس درجہ کا مجرم اور جنم کے کس طبقہ کا سزا وار ہے اللہ تعالیٰ کو کوئی زحمت پیش نہیں آئے گی اس لئے کہ اس دن کئی اپنے کسی عمل کو چھپا نہیں سکے گا۔ آدمی کے کان، آنکھ، بلکہ اس کے جسم کے رونگٹے تک اس کے تمام اعمال کی گواہی دیں گے۔ لفظ ’ جلود ‘ یہاں خاص کے بعد عام کی حیثیت سے آیا ہے۔ ’ سمع ‘ اور ’ بصر ‘ کا خاص گواہ ہونا تو واضح ہے کہ ہر چیز کے سننے اور دیکھنے والے یہی ہیں لیکن آدمی کے پاس اور بھی اعضا وجوارح ہیں جن سے وہ بدی یا نیکی میں کام لیتا ہے۔ لفظ ’ جلود ‘ نے ان سب کا احاطہ کرلیا ہے۔ گویا اس دن آدمی کے بدن کارواں دواں گوای کے لئے زبان بن جائے گا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ لفظ ’ جلود ‘ قرآن مجید میں رونگٹوں کے مفہوم میں آیا ہے۔ آیت تتشعر منہ حلود الذین… الآیۃ (الزمر : 23) کے تحت لفظ کے اس مفہوم پر ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔