Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 21

  1. وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَیْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَیْءٍ وَّ هُوَ خَلَقَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿21﴾

    1. وَقَالُوْااور وہ کہیں گے
    2. لِجُلُوْدِهِمْاپنی جلدوں سے
    3. لِمَکیوں
    4. شَهِدْتُّمْتم نے گواہی دی
    5. عَلَيْنَا ۭہم پر (ہمارے خلاف)
    6. قَالُوْٓاوہ جواب دیں گے
    7. اَنْطَقَنَاہمیں گویائی دی
    8. اللّٰهُاللہ نے
    9. الَّذِيْٓوہ جس نے
    10. اَنْطَقَگویا فرمایا
    11. كُلَّ شَيْءٍہر شے
    12. وَّهُوَ خَلَقَكُمْاور وہ تمہیں پیدا کیا
    13. اَوَّلَ مَرَّةٍپہلی بار
    14. وَّاِلَيْهِاور اسی کی طرف
    15. تُرْجَعُوْنَتم لوٹائے جاؤگے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ اپنے جسموں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہمیں اسی اللہ نے گویا کردیا جس نے ہر چیز کو گویا کیا اور وہی ہے جس نے تمہیں پہلی بارپیدا کیا اور اب اسی کی طرف لوٹائے جا رہے ہو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آدمی کے اعضاء کی گواہی خود اس کے خلاف اپنے اعضاء کی گواہی خود اپنے خالق سن کر وہ اپنے سر پیٹ لیں گے اور ان کو ملامت کریں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ؟ وہ جواب دیں گے کہ آج تو ہر چیز ناطق بن گئی ہے تو جس نے ہر چیز کو آج ناطق بنا دیا ہے اسی نے ہم کو بھی ناطق بنا دیا ہے۔ قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قیامت کے دن ہر چیز اپنی ساری سرگزشت سنا دے گی۔ مثلاً فرمایا ہے : اذا زلزلت الارض زلزالھا۔ واخرجت الارض اتقالھا۔ وقال الانسان مالھا ج یومئذ تعدث اخبارھا ‘ (الزلزال : 1۔ 4) (جب کہ زمین پوری شدت کے ساتھ ہلا دی جائے گی اور زمین اپنے سارے بار بوجھ نکال پھینکے گی اور انسان پکار اٹھے گا کہ اس کو کیا ہوگیا ہے ! !…اس دن وہ اپنی سرگزشت سنا ڈالے گی) یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز ناطق تو آج بھی ہے اس لئے کہ ہر چیز اللہ کی نشانی ہے اور اس کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت کی گواہ بن کر وہ انسان پر حجت قائم کر رہی ہے لیکن آج ان کی گواہی کو صرف وہی لوگ سن رہے ہیں جن کے دل بیدار ہیں۔ البتہ قیامت کے دن ان کی گواہی سب سنیں گے اور سب ان کی تصدیق کریں گے اس لئے کہ جو حجابات آج حائل ہیں وہ اس دن در ہوجائیں گے۔ ’ وھو خلقکم اول مرۃ والیہ ترجعون ‘ اگرچہ یہ بات بھی اسی بات کا ایک حصہ ہو سکتی ہے جو ’ جلود ‘ کی زبان سے نقل ہوئی ہے لیکن میرے نزدیک اس کا عطف اصل سلسلہ کلام پر ہے۔ ’ جلود ‘ سے سوال اور ان کے جواب کا ذکر بیچ میں بطور جملہ معترضہ آگیا ہے۔ اصل بات جو اوپر فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس دن ان کے کان، آنکھ اور ان کے دوسرے تمام اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے اور مقصود اس سے اس حقیقت کی وضاحت ہے کہ جب صورت حال یہ ہے کہ آدمی کے اپنے ہی اعضاء اس کے سارے راز کھول دینے کے لئے ناطق ہوجائیں گے تو کسی اور کی گواہی اور شہادت و شفاعت اس کے لئے کیا نافع ہو سکے گی ؟ مدعی کی اپنی گواہی تو لاکھوں کی گواہی پر بھاری ہو سکتی ہے۔ اسی پر عطف کرتے ہوئے فرمایا کہ اور یہ بات بھی یاد رکھو کہ اسی نے تم کو اول بار پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے۔ یعنی اگر تم نے یہ امید باندھ رکھی ہے کہ تمہاری واپسی تمہارے ان مزعومہ دیویوں دیوتائوں میں سے کسی کی طرف ہوگی جن کی تم پرستش کرتے ہو تو یہ خیال محض وہم پر مبنی ہے۔ جن کو خلق و تدبیر میں کوئی دخل نہیں ہے۔ آخر وہ مولیٰ و مرجع کس طرح بن جائیں گے !