تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 22
وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ﴿22﴾
- وَمَااور جو
- كُنْتُمْتھے
- تَسْتَتِرُوْنَتم چھپاتے
- اَنْ يَّشْهَدَکہ گواہی دیں گے
- عَلَيْكُمْتم پر (تمہارے خلاف)
- سَمْعُكُمْتمہارے کان
- وَلَآاور نہ
- اَبْصَارُكُمْتمہاری آنکھیں
- وَلَا جُلُوْدُكُمْاور نہ تمہاری جلدیں (گوشت پوست)
- وَلٰكِنْاور لیکن (بلکہ)
- ظَنَنْتُمْتم نے گمان کرلیا تھا
- اَنَّ اللّٰهَکہ اللہ
- لَا يَعْلَمُ كَثِيْرًانہیں جانتا بہت کچھ
- مِّمَّا تَعْمَلُوْنَاس سے تم کرتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تم یہ اندیشہ نہیں رکھتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان یا تمہاری آنکھیں یا تمہارے جسموں کے رونگٹے گواہی دیں گے بلکہ اس پر مزید تم نے یہ گمان کیا کہ اللہ بھی ان بہت سی باتوں کو نہیں جانتا جو تم کرتے ہو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’ تسترون کا مفہوم
تسترون کی تاویل بعض اہل تاویل نے تخافون سے کی ہے۔ ان کے نزدیک مفہوم یہ ہے کہ تم یہ اندیشہ نہیں رکھتے تھے کہ تمہارے کان، آنکھ اور دوسرے اعضاء تمہارے خلاف گواہی دیں گے۔ میرے نزدیک لفظ کی یہ تعبیر صحیح ہے۔ یہ لازم سے ملزوم پر استدلال کی نوعیت کی ایک چیز ہے جس کی مثالیں ہر زبان میں مل سکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ یہ اندیشہ رکھتے ہوتے تو کوئی برا کام کرتے ہوئے ان سے چھپتے لیکن جب ان سے وہ نہیں چھپتے تھے تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ ان سے کوئی اس نوعیت کا اندیشہ نہیں رکھتے تھے۔
’ ولکن ظننتم…الآیۃ ‘۔ ’ لکن ‘ یہاں ’ بل ‘ کے مفہوم میں ہے یعنی اعضا کی گواہی کا اندیشہ تو درکنار تمہاری بلادت کا تو یہ عالم رہا ہے کہ تم خدا کے متعلق بھی اس گمان میں مبتلا رہے ہو کہ اس کو بھی تمہارے بہت سے اعمال کی خبر نہیں ہوتی۔