Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 33

  1. وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ﴿33﴾

    1. وَمَنْاور کس
    2. اَحْسَنُبہترین
    3. قَوْلًابات
    4. مِّمَّنْاس سے جو
    5. دَعَآبلائے
    6. اِلَى اللّٰهِاللہ کی طرف
    7. وَعَمِلَاور عمل کرے
    8. صَالِحًااچھے
    9. وَّقَالَاور وہ کہے
    10. اِنَّنِيْبیشک میں
    11. مِنَسے
    12. الْمُسْلِمِيْنَمسلمانوں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس سے بڑھ کر اچھی بات کس کی ہوگی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ومن احسن قولاً ممن دعآ الی اللہ وعمل صالحاً وقال اننی من المسلمین (33) اسلام کی دعوت سے بڑھ کر کوئی دعوت نہیں rnٍیہ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی بھی ہے اور آپ کے ان مخالفین کے لئے ملامت بھی جو کہتے تھے کہ قلوبنا فی النۃ مما تدعونا الیہ و فی اذاتنا و قرو ومن بیننا وبینک حجاب رحم السجدۃ 5) (ہمارے دل تمہاری دعوت سے پردے میں ہیں اور ہمارے کان بہیر ہیں، ہمارے اور تمہارے درمیان ایک حجاب حائل ہے) مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ تمہاری بات نہیں سن رہے ہیں اور مخالفت کے جنون میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ لوگوں کو یہ سکھاتے پھر رہے ہیں کہ اس قرآن کو نہ سنو اور جب اس کو سنانے کی کوشش کی جائے تو شور و شغب سے اس کو دبا دو ، تو اب ان لوگوں کے زیادہ در پے ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ ساری خرابی خود انہی لوگوں کے اندر ہے، اس میں تمہارا یا تمہاری دعوت کا کوئی قصور نہیں ہے۔ تمہاری دعوت اللہ کی توحید اور اس کی بندگی کی دعوت ہے۔ آخر اس دعوت سے بڑھ کر اس آسمان کے نیچے اور کس بات کی دعوت ہو سکتی ہے ! تم اس دعوت کے ساتھ ساتھ خود بھی عمل صالح کے پیکر ہو اور اسی کی دعوت دوسروں کو بھی دے رہے ہو، یہ اسبات کی ناقابل انکار شہادت ہے کہ تم کوئی مصنوعی قسم کے آدمی نہیں ہو اور نہ تم ملک میں کوئی فساد برپا کرنا چاہتے ہو۔ بلکہ تمہارا قول یہ ہے کہ انی من المسلمین (میں اپنے رب کے فرنبرداروں میں سے ہوں) اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ لوگوں پر تم اپنی حکومت و سیادت قائم کرنے کی فکر میں سرگرداں نہیں ہو بلکہ سب کو اللہ کا مسلم اور فرمانبردار بنانا چاہتے ہو یہی اسلام اس تمام کائنات کی فطرت ہے اور اسی دین کی دعوت حضرت ابراہیم ؑ نے دی جن کے یہ لوگ نام لویا ہیں۔ اگر ان واضح حقائق کے بعد بھی یہ لوگ تمہاری دعوت کی مخالفت پر کمربستہ ہیں تو ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو۔ ان کے دلوں کے پردے اللہ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہٹا سکتا۔