تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 34
وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ١ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ﴿34﴾
- وَلَا تَسْتَوِياور برابر نہیں ہوتی
- الْحَسَنَةُنیکی
- وَلَا السَّيِّئَةُ ۭاور نہ بُرائی
- اِدْفَعْدور کردیں
- بِالَّتِيْاس سے جو
- هِىَ اَحْسَنُوہ بہترین
- فَاِذَا الَّذِيْتو یکایک وہ جو شخص
- بَيْنَكَآپ کے درمیان
- وَبَيْنَهٗاور اس کے درمیان
- عَدَاوَةٌعداوت
- كَاَنَّهٗ وَلِيٌّگویا کہ وہ دوست
- حَمِيْمٌقرابتی (جگری)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور بھلائی اور برائی دونوں یکساں نہیں ہیں۔ تم برائی کو اس چیز سے دفع کرو جو زیادہ بہتر ہے تو تم دیکھو گے کہ وہی، جس کے اور تمہارے درمیان عداوت ہے، گویا وہ ایک سرگرم دوست بن گیا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ولا تستوی الحسنۃ ولا السیۃ ادفع بالتی ھی احسن فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کا نہ ولی حمیم (34)
ایک داعی کے لئے مخالفین کے ساتھ متحسن رویہ
یہ نبی ﷺ کو اس رویے کی تعلیم دی گئی ہے جو مخالفین کی بدتمیزیوں کے مقابل میں آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے صحابہ کو اختیار کرنا ہے۔ فرمایا کہ اچھا رویہ اور برا رویہ دونوں یکساں نہیں ہو سکتے۔ آخرت کے انجام اور مقصد دعوت کے اعتبار سے دونوں کے اثرات ونتائج میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔ اس وجہ سے لوگوں کی بدتمیزیوں کے جواب میں وہ رویہ اختیار کرو جو زیادہ بہتر ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ تمہارے دشمنوں میں سے جن کے اندر کچھ صلاحیت ہے، تمہاری دعوت کی معقولیت اور تمہارے شریفانہ رویہ سے متاثر ہو کر، تمہارے سر گرم حامی بن جائیں گے۔
ادفع بالتی ھی احسن لوگوں کی بدتمیزیوں کے مقابل میں احسن طریقہ اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ کسی برائی کے جواب میں برابر سرابر کا طرز عمل اختیار کرنا آدمی کے لئے جائز ہے لیکن صبر اور عفو و درگزر کا رویہ زیادہ بہتر ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند یہ ہے کہ اس کے صالح اور عفو و درگزر کا رویہ زیادہ بہتر ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند یہ ہے کہ اس کے صالح بندے یہی رویہ اختیار کریں یہ ہدایت بالکل اسی سیاق وسباق میں متعدد جگہ قرآن میں دی گئی ہے۔ ایک نظیر سورة نحل سے ہم پیش کرتے ہیں جس سے اس آیت کی وضاحت ہوتی ہے۔
ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتی ھی احسن ط ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ وھو اعلم بامھتدین وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیر للصبرین، (النحل :126-125)
اپنے رب کے راستہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو اس کا اچھا طریقہ ہے۔ بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے ان لوگوں کو جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور وہ خوب جانتا ہے، ان کو بھی جو ہدایت یافتہ ہیں اور اگر تم ان کی کسی بات کا بدلہ لو تو بس اسی کے مانند بدلہ جو تمہارے ساتھ کیا گیا ہے اور اگر تم صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لئے زیادہ بہتر ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ مخالفین کی تعدیوں کا جواب دینے کا حق ایک شخص کو حاصل ہے لیکن دعوت و اصلاح کے نقطہ سے صبر اور عفو و درگزر کا طریقہ زیادہ بہتر ہے اس وجہ سے اسی زیادہ بہتر طریقہ کو اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی گئی۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ رویہ اہل ایمان کو اس وقت تک اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جب تک مخالفین پر اچھی طرح اتمام حجت نہ ہوجائے۔ اگر اتمام حجت ہوچکا ہو لیکن اس کے باوجود مخالفین اپنی روش مخالفت سے باز نہ آ رہے ہوں بلکہ اہل حق اور دعوت حق کو مٹا دنیے کے در پے ہوں تو اس وقت واضح اعلان برأت کے بعد ان کی پوری سرکوبی بھی کی جاسکتی ہے۔ اس صورت میں عفو و درگزر کے بجائے زیادہ بہتر طریقہ بلکہ حالات میں واحد طریقہ یہی ہوگا۔ چناچہ جن اہل مکہ کے ساتھ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو یہ رویہ اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے انہی کے ساتھ اتمام حجت کے بعد، وہ رویہ اختیار کرنے کی ہدایت ہوئی جس کی تفصیلات سورة برأت میں زر چکی ہیں۔
سلیم الفطرت لوگوں پر شریفانہ رویہ کا اچھا اثر پڑتا ہے
فاذا الذین بینک وبینہ عداوۃ کا نہ ولی حمیم یہ بات انسان کی عام فطرت کو پیش نظر رکھ کر ارشاد ہوئی ہے۔ جن کی فطرت مسخ نہیں ہوچکی ہے وہ جب دیکھتے ہیں کہ ایک شخص لوگوں کی بہی خواہی و ہمدردی میں اتنا بےچین ہے کہ ان کی تمام گستاخیوں اور بدتمیزیوں کے باوجود اپنے کریمانہ رویہ میں کوئی فرق آنے نہیں دیتا بلکہ لوگوں کی اینٹوں اور پتھروں کا جواب دعائوں سے دیتا ہے تو ان کے دلوں میں اگر اس کے خلاف کسی غلط فہمی کے باعث عداوت بھی ہو تو اس کے اس طرز عمل سے متاثر ہو کر ان کی یہ عداوت محبت سے بدل جاتی ہے اور وہ اس کے جاں نثار ساتھیوں میں سے بن جاتے ہیں۔ چناچہ یہ واقعہ ہے کہ نبی ﷺ کی دعوت میں سب سے زیادہ مئوثر عامل کی حیثیت آپ کے اسی کردار کو حاصل رہی ہے۔ آپکے دشمنوں میں سے جن کے اندر شرافت کا جو ہر موجود تھا وہ سب آپ کے اسی کردار سے متاثر ہو کر آپ کے وفادار اور اسلام کے جاں نثار بنے۔ صرف وہی اشقیا اس چیز سے متاثر نہیں ہوئے جن کی فطرت بالکل مسخ ہوچکی تھی۔