تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 37
وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ﴿37﴾
- وَمِنْ اٰيٰتِهِاور اس کی نشانیوں میں سے ہے
- الَّيْلُرات
- وَالنَّهَارُاور دن
- وَالشَّمْسُاور سورج
- وَالْقَمَرُ ۭاور چاند
- لَا تَسْجُدُوْااور نہ سجدہ کرو
- لِلشَّمْسِسورج کو
- وَلَا لِلْقَمَرِاور نہ چاند کو
- وَاسْجُدُوْااور تم سجدہ کرو
- لِلّٰهِاللہ کو
- الَّذِيْوہ جس نے
- خَلَقَهُنَّپیدا کیا انہیں
- اِنْ كُنْتُمْاگر تم ہو
- اِيَّاهُاس کی
- تَعْبُدُوْنَعبادت کرتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اسی کی نشانیوں میں سے رات اور دن، سورج اور چاند بھی ہیں۔ نہ سجدہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو، بلکہ سجدہ کرو اس اللہ کو جس نے ان ساری چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم اسی کی بندگی کرنے والے ہو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
-6 آگے کا مضمون …آیات :46-37
سورة کی ابتداء میں آفاق کی نشانیوں سے توحید اور معاد پر جو دلیلیں قائم فرمائی ہیں آگے کی آیات میں ان کی مزید وضاحت اور ساتھ ہی ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو اللہ کی آیات کی رہنمائی سے خود بھی منحرف ہیں اور دوسروں کو بھی منحرف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ قرآن خدائے زیز کا اتارا ہوا صحیفہ ہے۔ جو لوگ اس کی تکذیب کیں گے وہ نہ اللہ کا کچھ بگاڑیں گے نہ رسول کا بلکہ خود اپنی ہی ہلاکت کا سامان کریں گے۔ اسی ضمن میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ فرمایا گیا ہے کہ قرآن نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے اہل عرب اور اہل کتاب دونوں ہی پر ایک عظیم احسان فرمایا ہے۔ انہوں نے اس نعمت کی دقر نہ کی تو اس کا انجام خود بھگتیں گے۔ اللہ نے ان پر حجت تمام کردی ہے اس وجہ سے اب جس انجام سے بھی وہ دوچار ہوں یہ اسی کے سزاوار ہیں۔ یہ ان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-7 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ومن ایتہ الیل والھار و الشمس والقمر لاتسجدواللشمس ولا للقمر واسجدواللہ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون (37)
خدا کی نشانیوں کو خدا نہ بنائو
سورة کے شروع میں آیات 12-9 تک آسمان و زمین کی خلقت سے توحید و معاد پر جو استدلال کیا ہے، یہ آیت اسی سے متعلق ہے۔ بیچ میں جو مطالبہ تنبیہ و تذکیر یا تسکین و تسلی کی نوعیت کے آگئے ہیں وہ اسی مدعا کے تحت ہیں اس وجہ سے ان کے سبب سے کوئی بعد نہیں پیدا ہوا ہے چناچہ اسی پر عطف کرتے ہوئے فرمایا کہ جو خدا آسمان و زمین کا خالق ہے اسی خدا کی نشانیں میں سے یہ رات اور دن، سورج اور چاند بھی ہیں۔ یہ خود اپنی گردش، اپنے ایاب و ذہاب، اپنے عروج وزوال سے اپنی تسخیر اور اپنی محکومیت کی شہادت دے رہے ہیں۔ یہ زبان حالی سے گواہی دے رہے ہیں کہ یہ نہ تو خدا ہیں اور نہ کسی پہلو سے خدا کی خدائی میں شریک ہیں بلکہ خالق کائنات نے اس کائنات کی مشین میں ان کو پرزوں کی طرح جوڑا ہے اور وہ اس کے حکم سے اپنی مفوضہ خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کی اس شہادت کے بعد ان کو خدا یا شریک خدا سمجھنا محض جہالت و حماقت ہے۔ ان کی حیثیت خدا یا شریک خدا کی نہیں بلکہ خدا کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت کی نشانیوں کی ہے اور اس طرح کی نشانیاں صرف یہی نہیں ہیں بلکہ ان کے علاوہ اور بھی بیشمار نشانیاں ہیں جن میں سے یہ بھی ہیں۔
لاتسجدو اللشمس ولا للقمر واسجدو اللہ الذی خلقھن یہ اوپر والی بات کا نتیجہ بیان ہوا ہے کہ جب یہ خدا یا شریک خدا نہیں بلکہ خدا کی نشانیں میں سے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لئے بتایا ہے تو ان کی عبادت اپنے رب کی بھی تحقیر ہے اور اپنی بھی۔ عبادت کا حق دار صرف اللہ تعالیٰ ہے جس نے رات اور دن، سورج اور چاند ہر چیز و وجود بخشا اور ان کو انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ سجدہ یہاں عبادت کے فہم میں ہے اس لئے کہ یہ عبادت کے سب سے زیادہ نمایاں مظاہر میں سے ہے۔ سورج اور چاند کی عبادت کی ممانعت خاص طور پر اس وجہ سے فرمائی کہ مشرک قوموں نے ہر دور میں ان دونوں کی عبادت کی ہے۔ خلقھن کی ضمیر جمع ان تمام چیزوں کی طرف لوٹتی ہے جو اوپر مذکور ہوئیں۔
ان کنتم ایاہ تعبدون یعنی اللہ تعالیٰ کی خالص بندگی کا حق صرف اس طرح ادا ہوسکتا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کو سجدہ نہ کیا جائے۔ سجدہ بندگی کی سب سے بڑی علامت ہے اس وجہ سے یہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری چیزوں کی جو بندگی کرتے تھے تو اس کے متعق ان کا دعویٰ یہ تھا کہ یہ صرف اس لئے وہ کرتے ہیں کہ یہ چیزیں خدا کی قربت کا ذریعہ ہیں۔ گویا ان کی بندگی، ان کے زعم میں، خدا ہی کی بندگی تھی۔ اس ٹکڑے میں ان کے اسی زعم کی تردید ہے کہ خدا کی بندگی اس طرح بلا شرکت غیرے ہونی چاہئے کہ اس کی بندگی کی مخصوص علامات میں بھی کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔