تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 38
فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩۩﴿38﴾
- فَاِنِپس اگر وہ
- اسْتَكْبَرُوْاتکبر کریں
- فَالَّذِيْنَسو وہ جو
- عِنْدَ رَبِّكَآپ کے رب کے نزدیک
- يُسَبِّحُوْنَوہ تسبیح کرتے ہیں
- لَهٗ بالَّيْلِاس کی رات
- وَالنَّهَارِاور دن
- وَهُمْاور وہ
- لَا يَسْئَمُوْنَنہیں اکتاتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس اگر یہ تکبر کریں (تو کریں) جو فرشتے تیرے رب کے پاس ہیں وہ اسی کی تسبیح کرتے ہیں شب و روز اور وہ کبھی نہیں تھکتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فان استکبروا فالذین عند ربک یسبعون لہ بالیل و الھار وھم لایسمعون (38)
خدا کسی کی عبادت کا محتاج نہیں ہے
یعنی اگر یہ لوگ بربنائے استکبار تمہاری بات نہیں سن رہے ہیں اور بڑے طنطنہ کے ساتھ کہتے ہیں کہ تمہاری باتوں کے لئے ان کے کان بہرے اور تمہارے اور ان کے درمیان حجاب حائل ہے تو تم ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ خدا کو ان کی کوئی پروا نہیں اور تم بھی ان کی کوئی پروا نہ کرو۔ یہ اگر خدا کی عبادت نہیں کریں گے تو اس سے خدا کے بزم نہیں اجڑ جائے گی۔ تییر رب کے پاس جو فرشتے ہیں وہ رات دن اس کی تسیع میں سرگرم ہیں اور ان کے ذوق و شوق کا حال یہ ہے کہ وہ کبھی اس کام سے نہیں تھکتے۔ الذین عند ربک سے ملائکہ بحیثیت مجموعی مراد ہیں، صرف ملائکہ مقربین مراد نہیں ہیں۔ اس لئے کہ ملائکہ کو صفت یہاں مذکور ہوئی ہے وہ تمام ملائکہ کی مشترک صفت ہے۔ عند ربک کے الفاظ سے صرف اس قرب الٰہی کا اظہار مقصود ہے جو ملائکہ کو جنوں اور انسانوں کے مقابل میں حاصل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ ناہنجار لوگ خدا کی بندگی سے گریز کر رہے ہیں تو کریں، جو ان سے اعلیٰ و اشرف ہیں اور جن کو یہ معبود بنائے بیٹھے ہیں ان کو خدا کی بندگی سے عار نہیں ہے، وہ شب و روز خدا کی حمد و تسبیح میں سرگرم ہیں اور اس طرح سرگرم ہیں کہ ان کی سرگرمی میں ایک پل کے لئے بھی کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔