Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 4

  1. بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۚ فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ﴿4﴾

    1. بَشِيْرًاخوشخبری دینے والا
    2. وَّنَذِيْرًا ۚاور ڈرانے والا
    3. فَاَعْرَضَسو منہ پھیرلیا
    4. اَكْثَرُهُمْان میں سے اکثر
    5. فَهُمْپس وہ
    6. لَانہیں
    7. يَسْمَعُوْنَسنتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
خوشخبری دینے والی اور آگاہ کردینے والی۔ پس ان کی اکثریت نے اس سے اعراض کیا اور وہ اس کو نہیں سن رہے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اور اگر ہم اس کو عجمی قرآن کی صورت میں اتارتے تو یہ لوگ اعتراض اٹھاتے کہ اس کی آیتیں ہمارے لئے اچھی طرح کھولی کیوں نہ گئیں ؟ کلام عجمی اور مخاطب عربی ! ’ لقوم یعلمون ‘ میں فعل ہمارے نزدیک ارادہ فعل کے مفہوم میں ہے۔ یعنی ہم نے یہ سارا اہتمام ان لوگوں کے لئے کیا جو جاننے اور سمجھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو جاننے کی خواہش ہی سے محروم ہیں ان کے لئے سارے جتن بیکار ہیں۔ اس اسلوب بیان میں عربوں کے لئے ایک تحریص و ترغیب بھی ہے کہ انہیں جاننے اور سمجھنے کا حریص ہونا چاہئے اس لئے کہ وہ امی رہے ہیں اور اب پہلی بار اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کی تعلیم کے لئے ان کی زبان میں اپنی کتاب اتاری ہے۔ قرآن کے ردو قبول دونوں کے دور رس اثرات ’ بشیرا و نذیرا ‘۔ یہ قرآن کی دوسری صفت بیان ہوئی ہے کہ یہ بشیر و نذیر بن کر نازل ہوا ہے۔ جو لوگ اس کو قبول کریں گے ان کے لئے یہ دنیا اور آخرت دونوں میں فوزو فلاح کی بشارت ہے اور جو تکذیب کریں گے ان کے لئے یہ عذاب الٰہی کا پیش خیمہ ہے۔ یعنی کوئی اس کو سہل چیز نہ سمجھے۔ اب یہ سب سے بڑی رحمت بھی ہے اور سب سے بڑی نقمت بھی اس وجہ سے جو لوگ اس کی مخالفت کے در پے ہیں وہ اس مخالفت کے انجام کو دور تک سوچ لیں۔ قرآن محض وعظ نہیں بلکہ خدائی انذار ہے ’ فاعرض اکثرھم فھم لا یسمعون ‘۔ یعنی اکثر لوگوں نے اس کی اس اہمیت کو محلوظ نہیں رکھا بلکہ انہوں نے اس کو ایک معمولی چیز سمجھ کر اس سے اعراض اختیار کررکھا ہے اور اس کو سننے سمجھنے کے لئے کسی طرح تیار نہیں ہو رہے ہیں۔ انہیں یہ اندازہ نہیں ہے کہ یہ محض کسی واعظ کا وعظ نہیں ہے بلکہ یہ خدائی انذار ہے اور یہ جن باتوں سے آگاہ کر رہا ہے ان میں سے ہر بات لازماً سامنے آ کے رہے گی۔