تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 5
وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ﴿5﴾
- وَقَالُوْااور انہوں نے کہا
- قُلُوْبُنَاہمارے دل
- فِيْٓ اَكِنَّةٍپردوں میں
- مِّمَّااس سے جو
- تَدْعُوْنَآتم بلاتے ہو ہمیں
- اِلَيْهِاس کی طرف
- وَفِيْٓ اٰذَانِنَااور ہمارے کانوں میں
- وَقْرٌبوجھ، گرانی
- وَّمِنْۢ بَيْنِنَااور ہمارے درمیان
- وَبَيْنِكَاور تمہارے درمیان
- حِجَابٌایک پردہ
- فَاعْمَلْسو تم کام کرو
- اِنَّنَابیشک ہم
- عٰمِلُوْنَکام کرتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل ان باتوں سے اوٹ میں ہیں جن کی تم ہمیں دعوت دے رہے ہو اور ہمارے کان اس چیز سے بہرے ہیں جو تم ہمیں سنا رہے ہو اور ہمارے اور تمہارے درمیان ایک حجاب حائل ہے تو جو کچھ تمہیں کرنا ہے وہ کر گزرو، ہم بھی جو کچھ کرنے والے ہیں کر کے رہیں گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ اس اعراض اور نہ سننے کی تفصیل ہے کہ وہ بڑی رعونت و تمکنت کے ساتھ کہتے ہیں کہ جن چیزوں کی طرف تم ہمیں دعوت دے رہے ہو ان کو قبول کرنے کے لئے ہمارے دل بالکل بند ہیں یعنی جس توحید اور آخرت کی تم دعوت لے کر اٹھے ہو یہ دعوت کسی طرح ہمارے دل پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ یہ بالکل وہی بات ہے جو یہود کی زبانی قالوا قلوبنا غلف ‘ کے الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔ لفظ ’ اکنۃ ‘ پر اس کے محل میں گفتگو ہوچکی ہے۔
’ وفی اذاننا وقرا ‘ کے بعد ’ من استماع القراٰن ‘ یا اس کے ہم معنی الفاظ حذت ہیں۔ ’ مما تدعونا الیہ ‘ کا تقابل اس حذف کی طرف اشارہ کر رہا ہے، ترجمہ میں ہم نے اس کو کھول دیا ہے۔ یعنی یہ قرآن جو تم ہم کوس نا رہے ہو اس کے سننے کے لئے ہمارے کان بہرے ہیں۔
’ ومن بیننا و بینک حجاب ‘۔ یعنی ہمارے اور تمہارے درمیان عقائد و نظریات اور مسلک و مذہب کے اختلاف کی ایک ایسی دیوار حائل ہوگئی ہے کہ اب ہمارے مل سکنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔
مخالفین قرآن کا آخری مطالبہ
’ فاعمل اننا عملون ‘ یعنی جب ہمارے درمیان ایسی دیوار حائل ہوچکی ہے کہ اب ہم ایک دوسرے سے کبھی مل ہی نہیں سکتے تو اب جو کچھ تم کرسکتے ہو وہ کر گزر و اور ہم بھی جو کچھ کرنے والے ہیں وہ اب بلا پس و پیش کر کے رہیں گے۔ اگرچہ الفاظ سے ظاہر نہیں ہے لیکن اوپر ’ بشیر و نذیر ‘ کے جو الفاظ وارد ہوئے ہیں ان کو سامنے رکھ کے غور کیجئے تو ’ فاعمل ‘ کے اندر ان کی طرف سے عذاب کا مطالبہ مضمر ہے۔ یعنی تم اپنے قرآن میں جس عذاب کی روز دھمکی سنا رہے ہو اب ہمارے اس فیصلہ کن اعلان کے بعد اس کو لائو اگر اپنے دعوے میں سچے ہو ورنہ ہم تو بہرحال جو کچھ کرنے والے ہیں کر کے رہیں گے۔