Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 47

  1. اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ﴿47﴾

    1. اِلَيْهِاس کی طرف
    2. يُرَدُّلوٹایا (حوالے کیا) جاتا ہے
    3. عِلْمُ السَّاعَةِ ۭقیامت کا علم
    4. وَمَا تَخْرُجُاور نہیں نکالتا
    5. مِنْ ثَمَرٰتٍکوئی پھل (جمع)
    6. مِّنْ اَكْمَامِهَااپنے غلافوں (گابھوں) سے
    7. وَمَا تَحْمِلُاور نہیں حاملہ ہوتی
    8. مِنْ اُنْثٰىکوئی عورت
    9. وَلَا تَضَعُاور نہ وہ بچہ جنتی ہے
    10. اِلَّا بِعِلْمِهٖ ۭمگر اس کے علم میں
    11. وَيَوْمَاور جس دن
    12. يُنَادِيْهِمْوہ پکارے گا انہیں
    13. اَيْنَکہاں
    14. شُرَكَآءِيْ ۙمیرے شریک
    15. قَالُوْٓاوہ کہیں گے
    16. اٰذَنّٰكَ ۙاطلاع دیدی ہم نے تجھے
    17. مَا مِنَّانہیں ہم سے
    18. مِنْ شَهِيْدٍکوئی شاہد
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور قیامت کے علم کا معاملہ صرف اللہ ہی سے متعلق ہے اور کوئی میوہ اپنے غلاف سے باہر نہیں نکلتا اور نہ کوئی عورت حاملہ ہوتی اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے اور جس دن ان کو پکارے گا کہ میرے شریک کہاں ہیں تو کہیں گے کہ ہم نے تجھ سے عرض کردیا کہ ہم میں سے کوئی بھی اس کا گواہ نہیں رہا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
8 آگے کا مضمون … آیات 54-47 آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں پہلے ان لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے جو عذاب یا قیامت سے اس بنا پر نچنت تھے کہ ان کو اس کا وقت تعین کے ساتھ نہیں بتایا جا رہا ہے۔ ان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کسی حقیقت کا انکار محض اس بنیاد پر کوئی دانشمندی نہیں ہے کہ اس کے ظہور کا وقت بتایا نہیں جاسکتا۔ کتنی پیش پا افتادہ حقیقتیں ہیں جن کے ظہور کا وقت اگرچہ کسی کو نہیں معلوم لیکن کوئی عاقل اس کا انکار نہیں کرتا۔ اس کے بعد عذاب کے لئے جلدی مچانے والوں کے حال پر اظہار افسوس کیا گیا ہے کہ ان لوگوں کے تھرڈلے پن کا حال یہ ہے کہ اللہ نے اپنے فضل سے ان کو توبہ وا اصلاح کے لئے جو مہلت دی ہے تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ محض ان پر دھونس جمائی گئی ہے اور عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں حالانکہ اگر ابھی ذرا خدا کی کسی گرفت میں آجائیں تو اس سے نجات کے لئے لمبی لمبی دعائیں کرتے نہیں تھکیں گے۔ آخر میں قرآن کی تکذیب کے ہولناک انجام سے ڈرایا اور آگاہ فرمایا گیا ہے کہ اس کی صداقت کی جو دلیلیں بیان ہوئی ہیں اگر وہ ان کے لئے کافی نہیں ہیں تو عنقریب اس کی وہ آفاقی و انفسی نشانیاں ظاہر ہوں گی جن کے انکار کی کوئی بھی جرأت نہ کرسکے گا … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -9 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت الیہ یرد علم الساعت وما تخرج من ثمرت من اکما مھا وما تحمل من انثی ولاتضع الابعلمہ ط ویوم یناد یھم این شرکآءی لاقالوآ اذنک مامنا من شھید (47) قیامت کا مذاق اڑانے والوں کو جواب یہ ان لوگوں کو جواب دیا گیا ہے جو قیامت کے انذار کے جواب میں استہزاء کے طور پر یہ سوال کرتے کہ متی ھو ؟ وہ کب نمودار ہوگی ؟ اگر اس کو آنا ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتی ؟ آخر یہ جہاز چلا تو کہاں رک گیا، وہ ساحل پر کب لنگر انداز ہوگا ؟ اس قبیل کے مذاق اڑانے والوں کو قرآن میں جگہ جگہ یہ جواب دیا گیا ہے کہ قیامت کا آنا تو ایک حقیقت ہے۔ اس کائنات اور اس کے خالق کی صفات کا یہ ایک بدیہی تقاضا ہے۔ آفاق وانفس اور عقل و فطرت اس کے گواہ ہیں۔ اس وجہ سے وہ آئے گی تو ضرور رہا یہ سوال کہ وہ کب آئے گی تو اس کا تعلق صرف اللہ تعالیٰ سے ہے۔ وہی جانتا ہے کہ وہ کب آئے گی۔ اس راز سے اس کے سوا کوئی دوسرا واقف نہیں ہے۔ وما تخرج من ثمرت من اکما مھا وماتحمل من انثی ولا تضع الایعلمہ اور صرف یہی ایک راز ایسا نہیں ہے جس سے خدا کے سوا کوئی اور واقف نہ ہو بلکہ اور بھی کتنی پیش پا افتادہ حقیقتیں ہیں جن کا تعلق صرف اللہ تعالیٰ ہی کے علم سے ہے، انسان کا علم ان کے باب میں نہایت محدود ہے لیکن اس کے باوجود ان کے حقیقت ہونے سے کوئی عاقل انکار نہیں کرتا۔ گندم کا ایک خوشہ نمودار ہوتا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ اس کے پکنے کی نوبت آئے گی یا نہیں اور آئے گی تو اس میں کتنے دانے ناقص نکلیں گے، کتنے صحیح، کتنے ضائع جائیں گے، کتنے محفوظ رہیں گے، ان کے پکنے کی ٹھیک ٹھیک تاریخ کیا ہے اور ان میں سے کتنے دانے کسان کے نصیب کے ہیں جو اس کے کھتے تک پہنچیں گے اور کتنے چرند و پرند کی نذر ہوجائیں گے۔ ان ساری باتوں کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اس وجہ سے اگر انسان پر قیامت کے ظہور کا وقت واضح نہیں ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ قیامت تو بہت بڑی چیز ہے، انسان کا حال تو یہ ہے کہ اس کو اپنے سامنے کی روزمرہ مشاہدہ کی ہوئی چیزوں کی واقفیت بھی بہت تھوڑی ہی ہے۔ وما تحمل من انثی ایک عورت حاملہ ہوتی ہے۔ کون جانتا ہے کہ یہ لڑکی جنے گی یا لڑکا، ناقص چنے گی یا سالم، مردہ جنے گی یا زندہ اور جنے گی تو کس وقت جنے گی ؟ ان باتوں میں سے کسی بات کا بھی صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں ہے۔ اگر ایک ایسی عامتہ الورود چیز سے متعلق انسان کا علم اتنا محدود ہے تو اس کو قیامت کے ظہو کا صحیح وقت نہ معلوم ہو سکے یا نہ بتایا گیا تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے ؟ ہاں اگر وہ یہ دعویٰ کرسکتا کہ بقیہ ساری چیزوں کا علم تو اس کو حاصل ہے، صرف یہی ایک چیز اس کے علم سے باہر رہ گئی ہے تب اس کے لئے یہ جائز ہوسکتا تھا کہ اس کی بنا پر وہ کسی شک یا انکار میں مبتلا ہو۔ یہی مضمون دوسرے مقام میں یوں بیان ہوا ہے۔ ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم مافی الارحام وما تدری نفس ماذا تکسب غدا ط وما تدری نفس بای ارض تموت ط ان اللہ علیم خبیرہ (لقمان :34) قیامت کا علم صرف اللہ کے پاس ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور رحموں کے اندر جو کچھ ہے اس کو جانتا ہے اور کسی جان کو بھی یہ پتہ نہیں کہ کل وہ کیا کمائی کرے گی اور کسی کو بھی یہ خبر نہیں کہ وہ کس سرزمین پر مرے گا علیم و خیبر صرف اللہ ہی ہے۔ قیامت کے دن مشرکین شرک سے تبرہ کریں گے ویوم مرینا دیھم این شرکآء قالوا ذنک مامنا من شھید یعنی اگر قیامت سے یہ بےپروائی ان لوگوں کو اپنے مزعمہ شرکاء کے بل پر ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس دن جب اللہ تعالیٰ ان کو حکم دے گا کہ جن کو تم نے میرا شریک گمان کر رکھا تھا ان کو بالئو، وہ میری پکڑ سے تم کو چھڑائیں، تو یہ جواب دیں گے کہ ہم نے عرض کردیا کہ اب ہم میں سے کوئی بھی اس اعتراض کے لئے تایر نہیں ہے کہ ان میں سے کوئی بھی تیرا شریک ہے۔ یہ مضمون سابق سورة … سورة مومن … میں بھی گزر چکا ہے۔ ثم قیل تھم این ماکنتم تشرکون، من دون اللہ ط قالوا ضلوامنا بل لم فکن ندعوا من قبل شیاً ء ط کذلک یضل اللہ الکفرین (المومن، 74-73) پھر ان سے کہا جائے گا کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم اللہ کے مقابل میں شریک گردانتے تھے۔ وہ جواب دیں گے کہ وہ تو سب ہم سے کھوئے گئے بلکہ ہم اس سے پہلے کوئی چیز پوجتے ہی نہیں تھے۔ اس طرح اللہ کافروں کو حواس باختہ کر دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے جن مزعومہ شریکون پر ان لوگوں کو ناز ہے ان کی عقیدت کا نشہ پہلی ہی پکار پر ہرن ہوجائے گا۔ بعض اہل تاویل نے اذنک مامنا من شھید کو ان کے مزعومہ شرکاء کا قول مانا ہے یعنی جب اللہ تعالیٰ مشرکوں سے یہ مطالبہ کرے گا کہ تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کو تم نے میرا شریک گمان کیا تو جن ملائکہ یا انبیاء یا صالحین کی انہوں نے پرستش کی ہوگی وہ سبقت کر کے اپنی صفائی پیش کردیں گے کہ ہم میں سے کوئی بھی اس بات کا گواہ بننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ کوئی تیرا شریک ہے۔ یہ تاویل غالباً مندرجہ ذیل آیت کی روشنی میں اختیار کی گئی ہے۔ ویومھ یحشرھم وما یعبدون من دون اللہ فیقول ءانتم اضللتم عبادی ھولآء ام ھم ضلوا السبیل، قالوا سبحانک ما کان ینبغی لنا ان نتخذ من دونک من اولیآء و لکن متعتھم وابآء ھم حتی نسوا الذکر وکانوا قوماً بوراً (الفرقان :18-17) اور جس دن اللہ ان کو اور جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے رہے ہیں، اکٹھا کرے گا پس ان سے پوچھے گا کہ کیا تم لوگوں نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا یہ خود گمراہ ہوئے ؟ وہ جواب دیں گے تو پاک ہے، ہمیں یہ حق حاصل نہیں تھا کہ ہم تیرے سوا کسی کو کار ساز بناتے۔ بلکہ ہوا یہ کہ تو نے ان کو اور ان کے آباء و اجداد کو دنیا سے بہرہ مند کیا، یہاں تک کہ تیری یاد دہانی یہ فراموش کر بیٹھے اور ہلاک ہونے والے بنے۔ پہلی تاویل اختیار کرنے کی صورت میں لفظ اذنک اظہار برأت کے مفہوم میں ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ اب ہم نے کانوں پر ہاتھ رکھ کے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور تجھ سے امیدوار ہیں کہ تو ہم پر رحم فرمائے گا۔ دوسری تاویل لینے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے جواب میں تو وہ بات کہیں گے جو سورة فرقان کی محولہ بالا آیت میں مذکور ہے لیکن جب ان کی عبادت کے مدعیوں سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ مطالبہ ہوگا کہ تم اپنے مزعومہ شرکاء کو بلائو تو وہ یہ جان کر کہ وہ بلائے جا رہے ہیں اپنے اس قول کا حالہ دے دیں گے جو وہ پہلے کہہ چکے ہوں گے اور جو الفرقان کی آیت میں مذکور ہے۔