Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 48

  1. وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ﴿48﴾

    1. وَضَلَّ عَنْهُمْاور کھویا گیا ان سے
    2. مَّاجو
    3. كَانُوْا يَدْعُوْنَوہ پکارتے تھے
    4. مِنْ قَبْلُاس سے قبل
    5. وَظَنُّوْااور انہوں نے سمجھ لیا
    6. مَا لَهُمْنہیں ان کے لئے
    7. مِّنْ مَّحِيْصٍکوئی بچاؤ (خلاصی)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جن کو وہ پہلے پکارتے رہے تھے وہ سب ہوا ہوجائیں گے اور وہ جان لیں گے کہ اب ان کے لئے کوئی مفرباقی نہیں رہا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وضل عنھم ما کانوا یدعون میں قبل وظنوا مالھم من محیص (48) عابد اپنے اپنے معبودوں سے اظہار برأت کریں گے یا معبود اپنے عابدوں سے دونوں ہی صورتوں میں مشرکوں کی نامرادی یقینی ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے جن کے اعتماد پر آخرت کو نظر انداز رکھا وہ سب ہوا ہوجائیں گے اور ان کو یقین ہو جاء گا کہ اب خدا کے عذاب سے ان کے لئے کوئی مضر نہیں ہے۔ لفظ ظن پر اس کے محل میں ہم بحث کرچکے ہیں کہ ان مواقع میں یہ یقین کے مفہوم میں آتا ہے جہاں مقصود مستقبل کی کسی ایسی حقیقت کا بیان ہو جو اگرچہ نادیدہ ہو لیکن متکلم کے نزدیک وہ یقینی ہو۔ مثلاً انی طننت انی ملاق حسابیہ (الحآقۃ 20:) (مجھے یہ یقین رہا کہ مجھے بہرحال اپنے روز حساب سے دوچار ہونا ہے۔)