تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 51
وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ﴿51﴾
- وَاِذَآاور جب
- اَنْعَمْنَاہم انعام کرتے ہیں
- عَلَيپر
- الْاِنْسَانِانسان
- اَعْرَضَوہ منہ موڑلیتا ہے
- وَنَاٰاور بدل لیتا ہے
- بِجَانِبِهٖ ۚاپنا پہلو
- وَاِذَااور جب
- مَسَّهُآلگے اسے
- الشَّرُّبُرائی
- فَذُوْ دُعَآءٍتو دعاؤں والا
- عَرِيْضٍ(لمبی) چوڑی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب ہم انسان پر اپنا فضل کرتے ہیں تو وہ اعراض کرتا اور اپنا پہلو بدل لیتا ہے اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے والا بن جاتا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واذا انعمنا علی الانسان اعرض ونا بجانبہ واذا مسہ الشرفذو دعآء عریض (51)
نابجانیہ سے وہی مضمون ادا کیا گیا ہے جو دوسرے مقامات میں تولی برکنہ یا مشانی عطفہ وغیرہ محاورات سے ادا کیا گیا ہے۔ یہ غرور و استکبار سے اعراض کرنے اور منہ پھیرنے کی تعبیر ہے۔ جانب کے معنی پہلو کے ہیں آدمی جب کسی سے غرور کے ساتھ منہ موڑتا ہے تو مونڈھے جھٹک کر اپنا پہلو بدلتا اور وہاں سے چل دیتا ہے۔ اسی حالت کو یہاں نابجانبہ سے تعبیر فرمایا ہے۔
تنک ظرفوں کے کردار کا ایک خاص پہلو
اوپر کی آیات میں اس قبیل کے لوگوں کے کردار کا ایک پہلو پیش کیا گیا ہے۔ اب ان کے اسی کردار کا دوسرا پہلو دکھایا جا رہا ہے کہ اس سفلہ لوگوں (اشارہ قریش اور اہل طائف کے فراعنہ ہی کی طرف ہے) کا حال یہ ہے کہ جب ہم ان پر اپنا انعام کرتے ہیں تو یہ ہم سے اعراض کرتے اور غرور سے اکڑتے ہیں او اگر ذرا ہماری گرفت میں آجائیں تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے والے بن جاتے ہیں۔ یعنی ان کے اس طنطنہ کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ یہ ذرا میں بہک جانے والے اور ذرا ہی میں بلبلا اٹھنے والے ہیں۔