تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 52
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ﴿52﴾
- قُلْفرمادیں
- اَرَءَيْتُمْکیا تم نے دیکھا
- اِنْ كَانَاگر ہو
- مِنْسے
- عِنْدِ اللّٰهِاللہ کے پاس
- ثُمَّ كَفَرْتُمْپھر تم نے کفر کیا
- بِهٖاس سے
- مَنْ اَضَلُّکون بڑا گمراہ
- مِمَّنْاس سے جو
- هُوَوہ
- فِيْ شِقَاقٍۢضد میں
- بَعِيْدٍدور دراز
Translation · Tadabbur-e-Quran
ان سے کہو، بتائو اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کیا تو اس سے بڑھ کر گمراہ کون ٹھہرے گا جو ایک نہایت دور رس مخالفت میں جا پڑا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قل ارویتم ان کان من عند اللہ ثم کفرتم بہ من اضل ممن ھو فی شقاق بعید (52)
مکذبین قرآن سے ایک سوال
یہ ان مکذبین سے علی سبیل التنزیل ایک سوال فرمایا کہ اس طنطنہ کے ساتھ جو قرآن کا انکار کر رہے ہو تو اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا تب کہاں جائو گے ! اس صورت میں ان لوگوں سے بڑھ کر گمراہ کون ہوگا جو ایسی دور رس مخاصمت میں مبتلا ہو کر پانی ہلاکت کی اس منزل کو پہنچ جائیں جہاں سے بازگشت کا کوئی امکان ہی باقی نہ رہ جائے !
قرآن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی دعوت
یہ قرآن پر پوری سنجیدگی اور پوری اہمیت کے ساتھ غور کر کے اس کے باب میں کوئی فیصلہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس دعوت کی بنیاد یہ ہے کہ قرآن اپنی تکذیب کرنے والوں کو جس انجام سے خبردار کر رہا ہے اور جن دلائل کے ساتھ آگاہ کر رہا ہے وہ ایسی چیز نہیں ہے کہ سہل انگاری سے نظر انداز کردی جائے یا ہنسی مخسری میں اڑا دی جائے بلکہ بڑے ہی قوی دلائل کی شہادت کے ساتھ یہ بڑے ہی ہولناک انجام کی خبر ہے اس وجہ سے جو لوگ نہایت ڈھٹائی سے اس کو جھٹلا رہے ہیں وہ کم از کم اس کے دعوے کی صحت کے امکان کے پہلو کو نظر انداز نہ کریں۔ اگر وہ اس کی صحت کا امکان محسوس کرتے ہیں (اور کوئی ہٹ دھرم سے ہٹ دھرم بھی اس کے امکان سے انکار نہیں کرسکتا) تو دانشمندی کا تقاضا اور عاقبت بینیکا مطالبہ یہی ہے کہ وہ اس قرآن پر سو بار غور کریں اور جو فیصلہ بھی کریں اس کے نتائج پر دور تک سوچ کر کریں۔ اگر وہ اس کو اختیار کریں گیت و کوئی چیز کھوئیں گے نہیں بلکہ پائیں گے اور سب کچھ پائیں گے اور اگر محض ضد اور مخاصمت کے جنون میں مبتلا ہو کر اس کا انکاری کردیں گے تو یہ مخاصمت ان کو اتنی دور لے جا کر پھینکے گی جہاں سے پھر لوٹنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہے گا … مطلب یہ ہے کہ اس معاملہ پر اس کی حقیقی اہمیت سامنے رکھ کے غور کرو۔ اگر ضد، انانیت، حسد اور مخاصمت کو اس میں دخیل ہونے دیا گیا تو یہ کشمکش نہایت تباہ کن انجام پر منتہی ہوگی۔