تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 53
سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ﴿53﴾
- سَنُرِيْهِمْہم جلد دکھادیں گے انہیں
- اٰيٰتِنَااپنی آیات
- فِي الْاٰفَاقِاطراف عالم میں
- وَفِيْٓ اَنْفُسِهِمْاور ان کی ذات میں
- حَتّٰىیہاں تک کہ
- يَتَبَيَّنَظاہر ہوجائے
- لَهُمْان کیلئے
- اَنَّهُ الْحَقُّ ۭکہ وہ حق
- اَوَکیا
- لَمْ يَكْفِکافی نہیں
- بِرَبِّكَآپ کے رب کیلئے
- اَنَّهٗکہ وہ
- عَلٰيپر
- كُلِّ شَيْءٍہر شے
- شَهِيْدٌشاہد
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے اندر بھی یہاں تک کہ ان ظاہر ہوجائے گا کہ یہ قرآن بالکل حق ہے اور کیا تیرے رب کا ہر بات کا شاہد ہونا کافی نہیں ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
سنریھم ایتنا فی الافاق وفی انفسھم حتی یتبین لھم انہ الحق ط اولم یکف بربک انہ علی کل شیء شھید (53)
قرآن کی صداقت کے آثار آفاق وانفس میں
یہ نبی ﷺ کے لئے تسلی اور مکذبین قرآن کے لئے تہدید و وعید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ قرآن کو، اس کے دلائل کی بنیاد پر، ماننے کے لئے تیار نہیں بلکہ اس کی تصدیق کے لئے ہماری نشانیاں ہی دیکھنے پر مصر ہیں تو عنقریب وہ وقت بھی آ رہا ہے جب مکہ کے اطراف میں بھی اور خود مکہ میں، قریش کے اندر بھی، اس کی حقانیت کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوں گی کہ یہ لوگ پکار اٹھیں گے کہ بیشک قرآن بالکل حق ہے۔
آیات سے مراد غلبہ حق اور ہزیمت باطل کے وہ آثار و شواہد ہیں جن کی قرآن نے پیشین گوئی کی ہے۔ یہ پیشین گوئی اس سورة میں بھی پیچھے تاریخی دلائل کی روشنی میں گزر چکی ہے۔ ابتداء تو ریش کے لیڈروں نے ان باتوں کو تعلی پر محمول کر کے ان کا مذاق اڑایا یکن جب مدینہ میں اور خود مکہ کے اندر اور اس کے اطراف میں یہاں تک کہ خود قریش کے اچھے لوگوں کے اندر بھی اسلام جڑ پکڑنے لگا تب ان کو اور ان کے پشت پناہوں کو کچھ تنبہ ہوا۔ بالآخر ہجرت کے بعد غلبہ اسلام کے ایسے واقعات پیش آئے کہ قریش تو درکنار روم وفارس کے لئے بھی اسلام کے مقابل میں ٹکنا ناممکن ہوگیا۔ یہ مضمن سورة نمل کی آیت 93 میں بھی ہے۔ سیریکم ایتہ فتعرفونھا (اور وہ اس کی نشانیاں تم کو دکھائے گا پس تم ان کو پہچان جائو گے۔)
اولم یکف سوبک انہ علی کل شی ئشھیدا یعنی یہ غلبہ حق کی جو بشارت تمہیں دی جا رہی ہے اگرچہ مستقبل سے متعلق ہے لیکن تمہارا رب ماضی، حاضر اور مستقبل کی ہر چیز سے واقف ہے اس وجہ سے مطمئن رہو کہ ان میں سے ہر بات پوری ہو کے رہے گی۔