تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 23
وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ﴿23﴾
- وَكَذٰلِكَاور اسی طرح
- مَآنہیں
- اَرْسَلْنَابھیجا ہم نے
- مِنْ قَبْلِكَآپ سے قبل
- فِيْ قَرْيَةٍکسی بستی میں
- مِّنْ نَّذِيْرٍکوئی ڈرانے والا
- اِلَّامگر
- قَالَکہا
- مُتْرَفُوْهَآاس کے خوش حال لوگوں نے
- ۙاِنَّا وَجَدْنَآبیشک ہم نے پایا ہم نے
- اٰبَآءَنَااپنے آباؤ اجداد کو
- عَلٰٓي اُمَّةٍایک طریقے پر
- وَّاِنَّا عَلٰٓياور بیشک ہم، پر
- اٰثٰرِهِمْان کے نقش قدم (پر)
- مُّقْتَدُوْنَپیروی کرنے والے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اسی طرح ہم نے جس بستی میں بھی تم سے پہلے کوئی منذر بھیجا تو اس کے خوش حالوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چلتے رہیں گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ امر ملحوظ رہے کہ لفظ امۃ کی تنکیر اس کی عظمت کے اظہار کے لئے ہے۔
وکذلک ما ارسلنا من قبلک فی قریۃ من نذیر الاقال مسترفوھآ انا وجدنآ ابآء نا علی امۃ وانا علی اثرھم مقتدون، قل اولو جئتکم باھدی مما وجدتم علیہ ابآء کم ط قالوا انا بما آ ارسلتم بہ کفرون (24-23)
ہر دور کے مکذبین کا طریقہ ایک ہی رہا ہے
فرمایا کہ یہ لوگ جس طرح اپنے دین کے معاملے میں اندھے مقلد ہیں اسی طرح اپنی دلیل میں بھی پچھلے انبیاء کے مکذبین کے مقلد ہیں۔ تم سے پہلے جو منذر بھی کسی بستی میں ہم نے بھیجا اس کے انذار اور اس کی دعوت اصلاح کا جواب قوم کے مستکبرین نے یہی دیا کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک خاص طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم کی بیروی پر جمے رہیں گے۔ رسول نے جب ان سے یہ سوال کیا کہ اگر میں تمہارے باپ دادا کے طریقہ سے بہتر طریقہ تمہارے پاس لے کر آیا ہوں جب بھی تم اپنے باپ دادا کی طریقہ ہی پر جمے رہوہ گے ! اس کے جواب میں انہوں نے جھلا کر کہا کہ ہم تو اس سارے ہی کے منر ہیں جو دے کر تم بھیجے گئے ہو !
انا بمآ ارسلتم بہ کفرون سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔
ایک یہ کہ یہ جواب انہوں نے جھلا کر اور آپے سے باہر ہو کردیا۔ اس لئے کہ جواب اصل سوال سے کئی قدم آگے ہے۔ رسول کا سوال تو صرف یہ تھا کہ اگر میرا طریقہ جس کی میں دعوت دے رہا ہوں تمہارے باپ دادا کے طریقہ سے بہتر ہوا تو کیا اس صورت میں بھیتم اپنی اسی ہٹ پر قائم رہو گے۔ جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری ہر بات کے منکر ہیں۔ یعنی مسئلہ اھدی اور غیر ھدی کے امتیاز کا نہیں ہے بلکہ ہم تمہاری کوئی بات سرے سے سننے اور ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔
دوسری یہ کہ کسی شے کے اھدی، اور غیر اھدی میں امتیاز کی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ودیعت فرمائی ہے بشرطیکہ انسان کے پاس گوش حقیقت نیوش ہو۔ وہ مغرور، ضدی اور ہٹ دھرم نہ ہو۔