Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 22

  1. بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ﴿22﴾

    1. بَلْبلکہ
    2. قَالُوْٓاانہوں نے کہا
    3. اِنَّابیشک ہم نے
    4. وَجَدْنَآپایا ہم نے
    5. اٰبَآءَنَااپنے آباؤ اجداد کو
    6. عَلٰٓي اُمَّةٍایک طریقے پر
    7. وَّ اِنَّااور بیشک ہم
    8. عَلٰٓي اٰثٰرِهِمْان کے آچار پر۔ نقش قدم پر
    9. مُّهْتَدُوْنَہدایت یافتہ ہیں۔ راہ پانے والے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم بھی انہی کے نقش قدم پر راہ یاب ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
بل قالوآ انا وجدنا ابآء نا علی امۃ وانا علی اثرعم مھتدون 22 مشرکین کی روایتی دلیل اور اس کی تردید اوپر مشرکین کی کالمی دلیل کی تردید فرمائی ہے۔ اس پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ مشرکین عرب کو بھی بالکل اسی طرح کا دھوکا پیش آیا جس طرح کا دھوکا ہمارے ہاں مجبرہ کو پیش آیا۔ اب یہ ان کی روایتی دلیل ایک حوالہ ہے جس پر ان کو سب سے زیادہ اعتماد تھا اور چونکہ اس کی بنیاد تقلید آباء پر ہے جس کا تعلق عقل کے بجائے مجرد جذبات سے ہے اس وجہ سے ہر دور کے اشرار نے اس ہتھیار سے فائدہ اٹھایا اور عوام کے جذبات بھڑکا کر مصلحین کی مساعی اصلاح کو ناکام کرنے کی کوشش کی ہے۔ امۃ کے معنی جیسا کہ اس کے محل میں وضاحت ہوچکی ہے، کسی قوم کے مجموعی طریقہ اور مسلک کے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ اپنی اس حماقت کی تائید میں یہ دلیل بھی لاتے ہیں کہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ایک صحیح مسلک اور ایک اعلیٰ طریقہ پر پایا ہے اور ہم چونکہ انہی کے مسلک پر ہیں اس وجہ سے بالکل ہدایت کی راہ پر ہیں۔ انہی کے نقش قدم کی پیروی ہماری ہدایت کی ضامن ہوگی۔ اگر ہم اس سے ذرا منحرف ہوئے تو ہم ہدایت کی راہ سے بھٹک جائیں گے اس وجہ سے جو لوگ ہمیں اس راہ سے ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں وہ ہماری تباہی کے در پے ہیں۔