تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 2
وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ﴿2﴾
- وَالْكِتٰبِ الْمُبِيْنِقسم ہے کتاب روشن کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
قسم ہے واضح کردینے والی کتاب کی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
والکتب المبین (2)
’ و ‘ یہاں قسم کے لئے ہے اور یہ وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے کہ عربی میں قسم کا اصل مقصد کسی وعدے پر شہادت پیش کرنا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا مقسم علیہ کیا ہے ؟ عام طور پر ہمارے مفسرین نے اس کا مقسم علیہ بعد والی آیت انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ … کو قرار دیا ہے۔ اگرچہ زبان کے قواعد کے اعتبار سے اس میں کوئی خامی نہیں ہے لیکن مجھے اس پر پورا اطمینان نہیں ہے۔ قسم اور مقسم علیہ میں تعلق دلیل اور دعوے کا ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ قرآن کا کتاب مبین ہونا اس بات کی دلیل کس طرح بن سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔ میرے نزدیک یہاں مقسم علیہ محذوف ہے۔ قرینہ اور موقع کلام اس محذوف پر دل یل ہے۔ جو بنائے قرینہ مقسم علیہ کے محذوف ہونے کی نظریں بہت ہیں۔ ایک واضح نظیر سورة ق میں موجود ہے۔ ق والقرآن المجید بل عجبوآ ان جآء ھم منذر منھم …(2-1) (یہ سورة ق ہے، شاہد ہے قرآن بزرگ ! بلکہ انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک شخص منذر بن کر اٹھا) ظاہر ہے کہ یہاں مقسم علیہ محذوف ہے۔ اسی طرح آیت زیر بحث میں بھی مقسم علیہ محذوف ہے۔ اس حذف کا فائدہ یہ ہے کہ یہاں وہ ساری بات محذوف مانی جاسکتی ہے ہے جس کے لئے موقعہ کلام مقتضی ہو۔ اس حذف کو کھول دیجیے تو گویا پوری بات یوں ہوگی کہ یہ واضح کتاب، جو اپنے دعوے پر خود حجت قاطع ہے، اس بات کی شاہد ہے کہ یہ جھٹلانے والوں کو جس انجام بد سے ڈرا رہی ہے وہ ایک امرشدنی ہے جو شخص اس کو پیش کر رہا ہے اس کو خبطی یا دیوانہ نہ سمجھو بلکہ وہ ایک رسول مبین ہے۔ اس کی دعوت تمام تر حکمت پر مبنی ہے۔ اس کو بول کرنا باعث رحمت اور اس کو رد کرنا باعث نقمت ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ان باتوں کی دلیل ڈھونڈنے کے لئے قرآن سے کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان میں سے ہر حقیقت کو مبرہن کردینے کے لئے یہ کتاب خود کافی ہے۔ جو لوگ اس کو جھٹلا رہے ہیں وہ اپنی شامت کو دعوت دے رہے ہیں۔