Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 3

  1. اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ﴿3﴾

    1. اِنَّآبیشک ہم نے
    2. اَنْزَلْنٰهُنازل کیا ہم نے اس کو
    3. فِيْ لَيْلَةٍایک رات میں
    4. مُّبٰرَكَةٍبابرکت
    5. اِنَّابیشک ہم
    6. كُنَّا مُنْذِرِيْنَتھے ہم ڈرانے والے۔ متنبہ کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک اس کو ہم نے ایک مبارک رات میں اتارا ہے۔ بیشک ہم لوگوں کو آگاہ کردینے والے تھے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
انا انزلنہ فی لیلۃ مبارکۃ انا کنامنذرین (3) یہ اس اہتمام خاص کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے اتارنے کے لئے فرمایا۔ مقصود اس اہتمام کے ذکر سے مخاطبوں پر یہ واضح کرنا ہے کہ اس کو کوئی ہنسی مسخری کی چیز یا کسی مذوب کی بڑ نہ سمجھیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم اسکیم کا ایک نہایت عظیم حصہ ہے اور اس کے اتارنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے وہ مبارک شب منتخب فرمائی جو اس کی طرف سے تمام امور حکمت کی تقسیم کے لئے خاص کی ہوئی ہے۔ مقصود اس کے اتارنے سے ان لوگوں کو انذار کرنا ہے جن کے آباء و اجداد کو انذار نہیں کیا گیا تھا تاکہ ان پر اللہ کی حجت تمام ہوجائے اور قیامت کے دن وہ یہ عذر نہ کرسکیں کہ ان کو انذار کے بغیر ہی پکڑ لیا گیا۔ اس اہتمام خاص کے بعض اور پہلو بھی ہیں جن کی تفصیل انشاء اللہ سورة جن اور سورة قدر کی تفسیر میں آئے گی۔ لیلۃ مبارکۃ سے مراد ظاہر ہے کہ لیلتہ القدر ہے۔ چناچہ سورة قدر میں یہ تصریح موجود ہے کہ اسی رات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن اتارا انا انزلنہ فی لیلۃ القدر، ومآء ادرئک ما لیلۃ القدر، لیلۃ القدر، خیر من الف شھرہ تنزل الملٓئکۃ و الروح فیھا باذن ربھم من کل امرہ سلم ھی حتی مطلع الفجر (5-1) (ہم نے اس کو اتارا ہے لیلتہ القدر میں اور تم کیا سمجھے کہ لیلتہ القدر کیا ہے ! لیلتہ القدر ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ اس میں ملائکہ اور جبرئیل اترتے ہیں، ہر باب میں اپنے رب کے اذن کے ساتھ، وہ سلامتی ہی سلامتی ہے۔ ووہ طلوع فجر تک ہے۔) یہ لیلتہ القدر لازماً رمضان شریف ہی کی کوئی رات ہو سکتی ہے اس لئے کہ قرآن میں یہ تصریح بھی موجود ہے کہ رمضان ہی کے مہینہ میں قرآن نازل ہوا۔ شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن (البقرہ 185) (رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔) رہا یہ سوال کہ یہ رمضان کی کون سی رات ہے تو اس کا کوئی قطعی جواب دینا مشکل ہے۔ روایات کی روشنی میں صرف اتنی بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ رمضان کے آخری عشرہ کی کوئی رات ہے۔ تعین کے ساتھ اس کے ظاہر نہ کرنے میں مصلحت الٰہی یہ معلوم ہوتی ہے کہ بندے اس کی جستج کریں اور اس طرح ان کے ذوق وشوق اور طلب و تمنا کا امحتان ہو۔ بندوں کی اس طلب و تمنا کے اندر ہی اس لیلتہ القدر کی تمام برکتوں کا راز مضمر ہے۔ ان تصریحات سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہوگئی کہ اس سے شعبان یا کسی اور مہینہ کی کوئی رات مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس رات میں قرآن کے اتارے جانے سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ پورا قرآن اسی شب میں اتار دیا گیا ہو بلکہ یہ اس کے مبارک آغاز کا پتا دیا گیا ہے۔ جب ایک کام کا آغاز ایک مبارک ساعت میں ہوگیا اور اس کے پورے کئے جانے کا فصلہ بھی ہوگیا تو گویا وہ کام اسی مبارک ساعت میں ہوگیا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو کوئی دوسرا تبدیل نہیں کرسکتا۔ قرآن میں اس اسلوب تعبیر کی مثالیں موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مستقبل میں پورے ہونے والے وعدے ماضی کے صیغے سے بیان کئے ہیں۔ لیلۃ مبارکۃ کی تنکیر تفخیم شان کے لئے ہے۔ خاص خاص دنوں، مہینوں اور اوقات کا مبارک ہونا ان کی روحانی زرخیزی اور فیض بخشی کے پہلو سے ہے۔ جس طرح ہماری اس مادی دنیا میں موسموں اور فصلوں کا لحاظ ہے، ہر موسم ہر چیز کی کاشت کے لئے موزوں نہیں ہوتا، اسی طرح روحانی عالم میں بھی ساعات و اوقات، سالوں اور مہینوں کا اعتبار ہے۔ جو عبادت اللہ تعالیٰ نے جس وقت جس دن اور جس مہینہ کے ساتھ وابستہ کردی ہے اس کی حقیقت برکت اسی صورت میں ظاہر ہوتی ہے جب وہ اس وقت یا اس دن یا اس مہینہ کی پابندی کے ساتھ کی جائے۔ ورنہ جس طرح بےموسم کی بوئی ہوئی گندم بےحاصل رہتی ہے اسی طرح بےوقت کی نماز، بےوقت کے روزے اور بےموسم کے حج کا بھی کچھ حاصل نہیں اور اگر ہے تو بہت تھوڑا۔ ہمارے چوبیس گھنٹوں کے اوقات میں فجر، چاشت، ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور تہجد کے اوقات روحانی اعتبار سے اپنے اندر ایک خاص برکت رکھتے ہیں۔ قرآن اور حدیث میں ان کی برکت واضح فرمائی گی ہے۔ اسی طرح ہفتہ کے دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روحانی فیض بخشی کے اعتبار سے ایک مخصوص اہمیت حاصل ہے جو کسی دوسرے دن کو حاصل نہیں … سال کے بارہ مہینوں میں سے رمضان یا حج کے مہینوں کو جو شرف خصوصی حاصل ہے اس میں دوسرے مہینے ان کے شریک وسہیم نہیں ہیں۔ علی ہذا القیاس رمضان کے آخری عشرہ کی راتوں میں سے ایک رات اللہ تعالیٰ نے مخصوص کردی ہے جس میں وہ اپنے ملائکہ مقربین کے ذریعہ سے اس دنیا میں مامور ملائکہ کو اپنے سال بھر کے پروگرام سے آگاہ فرماتا ہے کہ وہ ہر حکم کو اس کے مقررہ وقت پر نافذ کریں۔ اسی طرح کی ایک رات میں رب العزت نے قرآن نازل فرمایا تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو انذار کیا جائے اور اس دنیا کی ہدایت کے لئے ایک آخری رسول کی بعثت کی شکل میں جو رحمت مقدر تھی وہ ظہور میں آئے۔ اس کا حوالہ دینے سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اس قرآن کا نزول نہ کوئی اتفاقی واقعہ ہے، نہ یہ کوئی بےوقت کی راگنی ہے، نہ یہ بےموسم کا کوئی خود رو پودا ہے۔ نہ یہ کوئی من گھڑت چیز ہے، بلکہ یہ اس اسکیم کا ظہور ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی خلق کی اصلاح و ہدایت کے لئے پسند فرمائی ہے۔ چناچہ اس مبارک رات میں اس کو اس نے اتارا ہے جو تمام امور حکمت کی تقسیم کے لئے خاص ہے۔ پس جن لوگوں کے لئے یہ اتاری گئی ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس کے شایان شان اس کی قدر کریں رنہ یاد رکھیں کہ جو چیز اللہ نے اس شان و اہتمام کے ساتھ اتاری ہے اس کی ناقدری وہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا یہ کوئی ہوائی چیز نہیں ہے کہ یہ اس کو مذاق میں اڑا دیں اور یہ اڑا جائے۔ اس کی تصدیق یا تکذیب دونوں ہی چیزیں نہایت اہم نتائج کی حامل ہیں اور یہ نتائج لازماً سامنے آ کے رہیں گے۔ ابدی بادشاہی یا ابدی ہلاکت انا کنا منذرین یہ قرآن کے مقصد نزول کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں یہ بات رہی ہے کہ جس طرح پچھلی قوموں کو ان کی نافرمانیوں پر ہلاک کرنے سے پہلے ان کو تمام خیر و شر سے آگاہ کردیا گیا اسی طرح اہل عرب کو بھی ان کی نافرمانیوں پر سزا دینے سے پہلے اچھی طرح آگاہ کردیا جائے تاکہ ان میں سے جو ہدایت قبول کرنا چاہیں وہ ہدایت قبول کرلیں اور جو ہدایت نہ قبول کریں ان کے لئے کوئی عذر نہ بای رہ جائے۔ مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کا نزول اور اس کی بعثت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمام حجت کے لئے ہے اور سنت الٰہی یہ ہے کہ اتمام حجت کے بعد کسی قوم کو مہلت نہیں ملا کرتی اس وجہ سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ جو قدم اٹھائے یہ سوچ کر اٹھائے کہ ایک فیصلہ کن مرحلہ اس کے سامنے ہے۔ اس کو دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے ابدی بادشاہی یا ابدی ہلاکت ! !