Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 28

  1. كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ﴿28﴾

    1. كَذٰلِكَاسی طرح
    2. وَاَوْرَثْنٰهَااور وارث بنادیا ہم نے ان کا
    3. قَوْمًا اٰخَرِيْنَدوسری قوم کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان چیزوں کا وارث ہم نے دوسروں کو بنایا۔ مجروں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
کذلک واورثنھا قوماً اخرین (28) مجرموں کے لئے سنت الٰہی کذلک کے بعد نقعل بالمجرمین کے الفاظ بربنائے قرینہ محذوف ہیں۔ یعنی ہم نے ان کے ساتھ جو کچھ کیا مجرموں کے ساتھ ہم ایسا ہی کرتے آئے ہیں اور ایسا ہی آئندہ بھی کریں گے واورثنھا قوماً اخرین اور ان چیزوں کا وارث ہم نے دوسروں کو بنایا۔ دوسروں سے مراد یہاں نبی اسرائیل نہیں ہیں۔ مصر سے نکلنے کے بعد بنی اسرائیل کا مصر آنا ثابت نہیں ہے۔ ممکن ہے اس سے مراد پڑوس کی وہ قومیں ہوں جن سے فرعونیوں کو برابر اندیشہ رہا کہ مبادا وہ بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ ملا کر ملک پر قبضہ کرلیں تو رات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے ذکور کے قتل کی جو اسکیم چلائی گئی تھی اس کا محرک ان کا یہ انیدشہ بھی تھا کہ اگر بنی اسرائیل کی تعداد زیادہ ہوگئی تو وہ ان کے دشمنوں کیساتھ مل کر ان کے لئے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔