تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 29
فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ع﴿29﴾
- فَمَاتو نہ
- بَكَتْرویا
- عَلَيْهِمُ السَّمَآءُان پر آسمان
- وَالْاَرْضُاور زمین
- وَمَا كَانُوْااور نہ تھے وہ
- مُنْظَرِيْنَمہلت دئیے جانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس نہ ان پر آسمان نے آنسو بہائے اور نہ زمین ہی نے اور نہ وہ مہلت پانے والے ہی بنے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فما بکت علیھم السمآء والارض وما کانوا منظرین (29)
یعنی جب تک وہ اقتدار میں رہے اس وقت تک تو سمجھیت رہے کہ وہ ایک عظیم تمدن کے بانی ہیں اور ساری دنیا ہمیشہ ان کی کنونڈی رہے گی لیکن ان کی تباہی پر نہ آسمان رویا، نہ زمین ہی نے دو آنسو بہائے بلکہ ہر ایک نے اطمینان کا سانس لیا کہ خس کم جہاں پاک !
یہ امر یہاں واضح رہے کہ ایک مظلوم کی موت پر تو آسمان بھی کبیدہ خاطر ہوتا ہے اور زمین بھی فریاد کرتی ہے۔ تورات میں لکھا ہے کہ خداوند نے فرمایا کہ زمین سے مجھے ہابیل کا خون پکارتا ہے۔ لیکن ظالموں اور نافرمانوں کی بربادی پر آسمان اور زمین سب خوش ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ان نافرمانوں کی تباہی پر جن پر اللہ نے اپنے رسول کے ذریعہ سے حجت تمام کردی ہو۔