تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 44. Ad-Dukhaan · Ayah 58
فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ﴿58﴾
- فَاِنَّمَاپس بیشک
- يَسَّرْنٰهُآسان کردیا ہم نے اس کو
- بِلِسَانِكَتیری زبان پر
- لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَشاید کہ وہ نصیحت پکڑیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں نہایت خوبی سے آراستہ کیا تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
-6 خاتمہ سورة …آیات 59-58
یاد ہوگا اس سورة کا آغاز قرآن کی عظمت کے بیان سے ہوا تھا کہ بڑی ہی عظیم نعمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اہل عرب کو نوازا ہے۔ اگر وہ اس کی قدر کریں گے تو دنیا اور آخرت دونوں میں فوز عظیم کے وارث ہوں گے اور اگر کھمنڈ میں مبتلا ہو کر اس کی ناقدری کریں گے تو یاد رکھیں کہ یہ جتنی بڑی نعمت ہے اتنی ہی بڑی نقمت بھی بن جائے گا اور وہ دنیا و آخرت دونوں میں اپنی بربادی کا سامان کریں گے۔ اس تمہیدی مضمون کے بعد قرآن کے دعا دی کی صداقت کے دلائل مذکور ہوئے۔ اب آخر میں ایک نئے پہلو سے پھر اسی مضمون کی یاد دہانی فرما دی گئی جس سے سورة کا آغاز ہوا تھا۔ گویا سورة اسی مضمون پو ختم ہوئی جس سے شروع ہوئی تھی۔ اس اسلوب کی متعدد مثالیں پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔ اعلیٰ خطیبوں کے خطبات میں بھی اس اسلوب کی نہایت بلیغ مثالیں ملتی ہیں۔ خطیب جس مضمون سے کلام کا آغاز کرتا ہے بالعموم اسی کی یاد دہانی پر اس کو ختم کرتا ہے تاکہ آخرت میں سامعین کو اصل بات کی مکرر یاد دہانی ہوجائے۔
-7 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی واضحت
فانما یسرنہ بلسانک لعلھم یتذکرون (58)
’‘ سابق کے ساتھ مضمون کے اتصال کو ظاہر کرتا ہے اور اتصال کا پہلو وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔
قرآن کی تیسیر کا مفہوم
تیسیر کے معنی کسی شے کو کسی مقصد کے لئے موزوں، سازگار اور ہر پہلو سے مستحکم وا ستوار بنانا ہے یسر الفرس للوکوب کے معنی ہوں گے، گھوڑے کو زین، رکاب لگام اور دوسرے تمام لوازم سے آرساتہ کر کے سواری کے لائق بنا دیا، اسی طرح یسرنا القرآن للذکر کے معنی ہوں گے قرآن کو تعلیم و تذکیر کے مقصد کے لئے تمام ضروری لوازم سے آراستہ کر کے نہایت موزوں بنایا ہے جن لوگوں نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ قرآن ایک نہایت سہل اور سپاٹ کتاب ہے۔ انہوں نے اس لفظ کی اصل حقیقت نہیں سمجھی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ قرآن نہایت سہل کتاب بھی ہے لیکن اس کی یہ سہولت اس اعلیٰ مقصد تعلیم و تذکیر کے اعتبار سے ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمائی ہے۔ یہ مقصد اپنے اندر گوناگوں پہلو رکھتا ہے اور قرآن چونکہ اس کے تمام پہلوئوں اور ان کے تمام ضروری لوازم کا جامع ہے اس وجہ سے اس کے اندر نہایت دقیق اور مشکل پہلو بھی ہیں اگرچہ ان مشکل پہلوئوں کو دلوں کے انر اتارنے کے لئے قرآن نے جو طریقے اختیار کئے ہیں ان سے زیاہ نشین طریقے اختیار کرنا دوسروں کے امکان میں نہیں ہے۔ تاہم یہ چیزیں بجائے خود نہایت گہرے تدبر کی محتاج ہیں اس لئے کہ ان کا تعلق حکمت سے ہے اور حکمت گہرے تدبر کی مقتضی ہوتی ہے اس سمئلہ کے بعض پہلوئوں کی طرف سورة مریم کی آیت 97 کے تحت بھی ہم اشارہ کر آئے ہیں اور خدا نے چاہا تو اس پر مزید روشنی سورة قمر کی تفسیر میں ڈالیں گے۔
بلسانک سے مراد قریش کی وہ ٹکسالی زبان ہے جو فصیح عربیت کا سب سے اعلیٰ نمونہ تھی اور نبی ﷺ جس کی فصاحت و بلاغت کے مظہر اتم تھے۔ یہ قرآن کی تیسیر کے ایک نہایت اہم پہلو کی طرف اشارہ فرمای گیا ہے کہ قریش پر اتمام حجت کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو تمہاری زبان میں اتارا ہے جو قریش کی زبان کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہے۔ اگر اس زبان میں بھی یہ اس کتاب کو نہ سمجھے تو نہ اس کتاب کا قصور ہے اور نہ تمہارا بلکہ یہ خود ان کے دلوں کا فساد ہے جس کی ذمہ داری تمہارے اوپر نہیں ہے۔
لعلتھم یتذکرون یہ قرآن کے اس اہتمام خاص کے ساتھ اتارے جانے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ وہ یاد دہانی حاصل کریں یاد دہانی حاصل کریں، یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کی عقل و فطرت کے اندر ودیعت فرمایا ہے اس کو یاد کریں، جو حقائق آفاق وانفس کے اندر مضمر ہیں ان سے سق حاصل کریں اور جو تعلیم ان کو سابق نبیوں، خاص کر ان کے جداعلیٰ حضرت ابراہیم ؑ کے ذریعہ سے کھلی ہے اس کو یاد کریں۔ قرآن ان ساری باتوں کی نہایت بہترین زبان اور بہترین اسلوب سے یاد دہانی کر رہا ہے۔ اس ٹکڑے کے اندر یہ تنبیہ بھی مضمر ہے کہ اگر وہ یہ یاد دہانی حاصل کرنے کے لئے تایر نہیں ہیں تو پھر اس انجام کے لئے تیار ہوجائیں جو اس طرح کے سرکش لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے اور جس کی یاد دہانی خود ان کے ملک کی پچھلی تاریخ ان کو کر رہی ہے۔