Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 1

  1. حٰمٓۚ﴿1﴾

    1. حٰمٓحا۔ میم
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ حم ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت حم، تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم 2-1 اس سورة کا بھی قرآنی نام حم ہی ہے۔ اس نام سے موسوم سورتوں کے مطالب کے اشتراک اور ان کے مزاج کی ہم رنگی پر پچھلی سورتوں کی تفسیر میں ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔ سورة کی تمہید تنزیل الکتب …الایۃ، سابق سورة کی طرح اس سورة کی تمہید میں بھی قرآن کی عظمت و اہمیت کا حوالہ ہے البتہ اس میں اہمیت کے بیان کا پہلو سابق سورة سے مختلف ہے۔ لفظ تنزیل، پر ہم اس کے محل میں بحث کر کے بتا چکے ہیں کہ اس کے اندر تدریج و اہتمام کا مفہوم پایا جاتا ہے اور قرآن کے اتارے جانے کے معاملے میں اللہ نے جو اہتمام خاص ملحوظ رکھا ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس اہتمام خاص کے ذکر کے ساتھ ساتھ اپنی دو صفتوں، عزیز اور حکیم …کا حوالہ دیا ہے۔ عزیز کے معنی غالب و مقتدر کے ہیں اور حکیم اس کو کہتے ہیں جس کے ہر قول و فعل میں حکمت ہو۔ ان دونوں صفوں کے اجتماع سے یہاں دو باتیں واضح ہوئیں۔ صفات عزیز و حکیم کے متقیات ایک یہ کہ جس خدا نے یہ کلام اس اہتمام کے ساتھ اتارا ہے وہ کوئی ضعیف و ناتواں اور عاجز و بےبس ہستی نہیں ہے بلکہ تمام کائنات کا اختیار و اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ تمام کائنات کے مالک حقیقی کا فرمان واجب الادغان ہے اگر اس کا کماحقہ، احترام نہ کیا گیا تو لوگ یاد رکھیں کہ جب وہ لوگوں کو پکڑے گا تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہ بن سکے گا۔ دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ عزیز اور غالب و مقتدر ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم بھی ہے۔ اس وجہ سے اس کا ہر قول و فعل حکمت پر مبنی ہے۔ اس کی حکمت کی شان اس کے اس حکیمانہ کلام سے واضح ہے بشرطیکہ لوگ اس پر غور کریں۔ اس کی حکمت ہی کی ایک شان یہ بھی ہے کہ اگرچہ ناقدرے اور ناشکرے اس کے کلام اور اس کے رسول کی توہین کر رہے ہیں لیکن وہ غالب و مقتدر ہون یکے باوجود ان کے پکڑنے میں جلدی نہیں کر رہا ہے بلکہ ان کو مہلت پر مہلت دیئے جا رہا تاکہ جن کے اندر کچھ صلاحیت ہے وہ اپنی اصلاح کر کے اپنے آپ کو اللہ کی رحمت کا مستحق بنا لیں اور جو اپنی صلاحیتیں برباد کرچکے ہیں ان پر اللہ کی حجت پوری ہوجائے۔ حساب کے دن وہ کوئی عذر نہ کرسکیں۔