Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 12

  1. اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ﴿12﴾

    1. اَللّٰهُاللہ
    2. الَّذِيْوہ ذات ہے
    3. سَخَّرَجس نے مسخر کیا
    4. لَكُمُ الْبَحْرَتمہارے لیے سمندر کو
    5. لِتَجْرِيَ الْفُلْكُتاکہ چلیں کشتیاں
    6. فِيْهِاس میں
    7. بِاَمْرِهٖساتھ اس کے حکم کے
    8. وَلِتَبْتَغُوْااور تاکہ تم تلاش کرو
    9. مِنْ فَضْلِهٖاس کے فضل میں
    10. وَلَعَلَّكُمْاور تاکہ تم
    11. تَشْكُرُوْنَتم شکرادا کرو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کو سازگار بنا دیا تاکہ اس کے حکم سے، اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے شکر گزار ہو
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اللہ الذی سخر لکم البحر لتجری انفلک فیہ بامرہ ولتبتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون، وسخرلکم ما فی السموت وما فی الارض جمیعاً منہ ط ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (13-12) دلائل کا سلسلہ بیان اوپر کی چار آیتیں توحید اور معاد کے دلائل کے بیچ میں بطور تنبیہ و تذکیر آگئی تھیں تاکہ قریش کے لیڈروں کو برسر موقع تنبیہ ہوجائے اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دے دی جائے، اب اس آیت میں اصل سسلہ کلام کو پھر لے لیا۔ فرمایا کہ اللہ ہی ہے جس نے سمندر کو اس طرح تمہاری خدمت میں لگا رکا ہے کہ وہ اپنے سینہ پر تمہاری کشتویں کو چلاتا ہے۔ بامرہ یعنی یہ بات خاص خدا کے حکم سے ہوتی ہے۔ اگر خدا کا حکم نہ ہوتا تو دیکھتے ہو کہ کشتی سے کہیں زیادہ چھوٹی چیزیں سمندر کے اندر ڈالتے ہی ڈوب جاتی ہیں لیکن ہزاروں ٹن کا جہاز اس پر تیرتا ہے۔ یہ اللہ ہی کا بنایا ہوا قانون ہے کہ لوہے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تو ڈوب جائے لیکن جہاز اپنے اوپر ہزاروں ٹن لوہا لادے ہوئے نہ ڈوبے وتسبعوا سے پہلے قرینہ دلیل ہے کہ لترکبوا، یالتسافروا، یا ان کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔ حرف عطف اس حذف کی دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تمہارے لئے یہ اہتمام اس لئے فرمایا ہے کہ تم ایک مقام سے دوسرے مقام کا سفر کرو اور تجارت کی راہ سے اس کے فضل کے طلب بن سکو۔ مشاہدات ربوبیت کی اصل تعلیم ولعکم تشکرون یہ وہ اصل سبق ہے جو اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے ان مشاہدات سے ہر اس شخص کو ملتا ہے جس کے ضمیر اور جس کی عقل کے اندر زندگی کی کوئی رمق باقی ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے اپنی پروردگاری کی یہ شانیں اس لئے تم کو دکھائی ہیں کہ تم اس کے شکر گزار بندے بنو۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ شکر گزاری کا یہ جذبہ ہی خدا کی بندگی کی اصل ہے۔ سورة فاتحہ کی تفسیر میں اس کی وضاحت ہوچکی ہے۔ وسخرلکم مافی السموت والارض جمیعاً منہ، اور خاص طور پر سمندر کی تسخیر کا ذکر فرمایا تھا جو انسان کے مشاہدہ میں آنے والی چیزوں میں سب سے زیادہ زور دار اور بظاہر بالکل ناقابل تسخیر بھی ہے اور کم و بیش ہر شخص کو اس کے سفر کا تجربہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ اب یہ خاص کے بعد اس کائنات کی عام چیزوں کا حوالہ دیا کہ اسی خدا نے آسمانوں اور زمین کی دوسری چیزوں کو بھی تمہاری منعفت رسانی میں لگا رکھا ہے۔ جمیعاً منہ یعنی یہ ساری چیزیں اسی کے حکم سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تمہاری خدمت انجام دے رہی ہیں۔ جمیعاً کا تعلق ماسبق سے نہیں بلکہ منہ سے ہے۔ ان میں سے کسی چیز کو بھی نہ تم نے مسخر کیا ہے، نہ کسی اور نے مسخر کیا ہے اور نہ یہ چیزیں بطور خود تمہاری چاکری کر رہی ہیں بلکہ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے تمہارے رب کی تدبیر سے ہو رہا ہے اس لئے کہ تنہا وہی ہے جو ان تمام چیزوں کا خالق اور ان پر مصرف ہے۔ ان فی ذلک لایت تقوم یتفکرون یعنی غور کرنے والوں کے لئے آفاق کی نشانیوں میں توحید اور معاد کی گوناگوں دلیلیں موجود ہیں۔ آفاق کی نشانیوں میں توحید اور معاد کی دلیلیں ان کا مسخر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی یہ درجہ نہیں رکھتی کہ اس کو معبود مان کر اس کی پرستش کی جائے بلکہ ہر چیز اپنے وجود سے اس بات کی شاہد ہے کہ اس کی نکیل ایک بالاتر قوت کے ہاتھ میں ہے جو اس کو اپنی مشیت اور حکمت کے تحت استعمال کر رہی ہے۔ ان کے اندر تضاد تخالف کے باوجود اس طرح کی موافقت اور سازگاری بھی ہے جو ایک مشین کے پرزوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ یہ تو افق اس بات کی دلیل ہے کہ ایک ہی ارادہ ہے جو اس کائنات کے پورے نظام پر حاوی ہے۔ اس نظام میں ربوبیت، رحمت اور حکمت کی ایسی شہادتیں موجود ہیں جو اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ کوئی ادنھی بہری قوت اس کو نہیں چلا رہی ہے۔ اس کا علم، اس کی رحمت اور اس کی حکمت مقتضی ہے کہ وہ ایک ایسا روز جزاء و سزا بھی لائے جس میں وہ ان لوگوں کو انعام دے جنہوں نے اس کی نعمتوں کا حق پہچانا اور ان لوگوں کو سزا دے جنہوں نے اس کی نعمتوں کی ناقدری کی اور کفر و شرک میں مبتلا ہوئے اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ یا تو نعوذ باللہ، بالکل بےاختیار ہے یا بالکل بےحس اور کھلنڈرا یہ باتیں اس کی اعلیٰ صفات کے منافی ہیں۔ دلائل کی کمی نہیں ہے ضرورت تفکر کی ہے۔ آخر میں لفظ تفکرون اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ جہاں تک دلائل کا تعلق ہے ان کی کمی نہیں ہے۔ کائنات کا چپہ چپہ ان سے معمور ہے اور قرآن نے بھیان کی پوری تفصیل کردی ہے۔ کمی جس چیز کی ہے وہ تفکر کی ہے۔ لوگ اللہ کی نشانیوں پر غور نہیں کرتے اور یہ غور کرنا انسان کا اپانا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر کسی کو مجبور نہیں کرتا۔