Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 16

  1. وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ﴿16﴾

    1. وَلَقَدْ اٰتَيْنَااور البتہ تحقیق دی ہم نے
    2. بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل کو
    3. الْكِتٰبَکتاب
    4. وَالْحُكْمَاور حکومت
    5. وَالنُّبُوَّةَاور نبوت
    6. وَرَزَقْنٰهُمْاور رزق دیا ہم نے ان کو
    7. مِّنَسے
    8. الطَّيِّبٰتِپاکیزہ چیزوں میں (سے)
    9. وَفَضَّلْنٰهُمْاور فضیلت دی ہم نے ان کو
    10. عَلَي الْعٰلَمِيْنَتمام جہانوں پر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکومت اور نبوت سے سرفراز کیا اور ان کو پاکیزہ رزق عطا کیا اور دنیا والوں پر ان کو فضیلت بخشی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
-2 آگے کا مضمون … آیات 23-16 آگے یہود کے اس رویہ سے بحث ہے جو اسلام دشمنی کے جوش میں مشرکین کی حمایت میں انہوں نے اختیار کیا۔ اس دور میں جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کرچکے ہیں انہوں نے بھی کھلم کھلا مشرکین کی پیٹھ ٹھنکنی شروع کردی تھی۔ ان کو چونکہ ایک مذہبی گروہ کی حیثیت حاصل رہی تھی اس وجہ سے ان کی شہ نے مشرکین کا حوصلہ بہت بڑھا دیا تھا۔ یہ چیز مقتضی ہوئی کہ ان کا پول کھول دیا جائے تاکہ مسلمانوں کے اندران کی مخالفت سے کوئی ہراس نہ پیدا ہو اور مشرکین بھی آگاہ ہوجائیں کہ جن کی شہ پر وہ بہت نازاں ہیں وہ ان سے بھی بڑے خدا کے مجرم ہیں۔ اگر ان کے کہے پر وہ چلے تو بالآخر دونوں کا انجام ایک ہی ہوگا۔ اسی ضمن میں نبی ﷺ کو پورے استقلال کے ساتھ اپنے موقف حق پر ڈٹے رہنے کی تاکید فرمائی گئی کہ اب خدا کی اصل شریعت پر تمہی ہو۔ نہ تمہیں یہود کی پروا کرنی ہے نہ مشرکین کی۔ اللہ کی تائید صرف تمہیں اور تمہارے ساتھیوں ہی کو حاصل ہے اور اللہ کی تائید بس ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ -3 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ولقد اتینا بنی آسرائیل الکتب والحکم والنبوۃ ورزقنھم من الطیبت وفضلتھم علی العلمین 16 انعامات جو اللہ نے بنی اسرائیل پر کئے لیکن انہوں نے ان کی ناقدری کی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو عظیم احسانات فرمائے یہ ان کا حوالہ ہے اور مقصود ان کے حوالہ سے، جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا اور آگے کی آیات سے واضح ہوجائے گا، یہ دکھانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر بڑے بڑے احسانات کئے لیکن یہ قوم ایسی ناہنجار نکلی کہ اس نے ہر احسان کی ناقدری کی یہاں تک کہ خود بھی اللہ کی نعمتوں سے محروم ہوئی اور اپنی ہی طرح دوسروں کو بھی اس سے محروم ہی دیکھنا چاہتی ہے۔ الکتب سے مراد ظاہر ہے کہ تورات ہے۔ ”حکم، سے یہاں قرینہ دلیل ہے کہ وہ حکومت مراد ہے جو بنی اسرائیل کو حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہا السلام) کے دور میں حاصل ہوئی اور ایک طویل مدت تک قائم رہی۔ کتاب اور حکومت میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے اللہ کی کتاب اس کے احکام و قوانین کا مجموعہ ہوتی ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ جس قوم کو اپنے احکام قوانین کا صحیفہ عطا فرماتا ہے اس کو لازماً حکومت بھی دیتا ہے اس لئے کہ احکام و قوانین کی تنقید کے لئے حکومت ناگزیر ہے۔ اس حکومت سے قوم اسی وقت محروم ہوتی ہے جب وہ اللہ کے احکام کو پیٹھ پیچھے پھینک دیتی ہے۔ ’ نبوۃ ‘ کا مفہوم واضح ہے لیکن یہاں اس کے ذکر کا ایک خاص پہلو ہے وہ یہ کہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد بنی اسرائیل کے اندر نبوت کا ایک ایسا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا جو حضرت مسیح علیہ اسلام تک بلاانقطاع جاری رہا حضرت مسیح کے ساتھ اس قوم نے ہر سلوک کیا اس کے نتیجہ میں یہ قوم ملعون ہوئی پھر حکومت اور نبوت دونوں نعمتوں سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوگئی۔ ورزقنھم من الطیبت سے رزق و فضل اور نعمت و رفاہیت کی اس فراوانی کی طرف اشارہ ہے جس کا آغاز ارض فلسطین پر ان کے قبضہ کے بعد سے ہوا اور حضرت سلیمان ؑ کے دور میں یہ اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی۔ وفضلنھم علی العلمین یہ فضیلت کسی قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب دیے جانے کا لازمی نتیجہ ہے۔ کتاب الٰہی خلق کے لئے ہدایت کی روشنی ہوتی ہے۔ یہ روشنی جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو پکڑاتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس نے اس قوم کو اپنی خلق کی رہنمائی کے لئے چن لیا۔ بلاشبہ یہ ایک عظیم فضیلت ہے لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی واضح رہے کہ یہ فضیلت مشروط ہے۔ جب تک کوئی خلق کی رہنمائی کا یہ فرض انجام دیتی ہے اس وقت تک اس کو یہ فضیلت حاصل رہتی ہے۔ جب وہ اس فرض کو ترک کردیتی ہے اس فضیلت سے بھی محروم ہوجاتی ہے۔