تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 17
وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿17﴾
- وَاٰتَيْنٰهُمْاور دیں ہم نے ان کو
- بَيِّنٰتٍواضح نشانیاں
- مِّنَ الْاَمْرِدین میں سے
- فَمَا اخْتَلَفُوْٓاتو نہیں انہوں نے اختلاف کیا
- اِلَّا مِنْۢ بَعْدِاس کے بعد
- مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُجو آیا ان کے پاس علم
- بَغْيًۢابغاوت۔ سرکشی کی وجہ سے
- بَيْنَهُمْآپس میں
- اِنَّ رَبَّكَبیشک رب تیرا
- يَقْضِيْفیصلہ کرے گا
- بَيْنَهُمْان کے درمیان
- يَوْمَ الْقِيٰمَةِقیامت کے دن
- فِيْمَا كَانُوْااس میں سے جو تھے وہ
- فِيْهِجس میں
- يَخْتَلِفُوْنَوہ اختلاف کرتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ان کو شریعت الٰہی کے کھلے کھلے احکام دیے تو انہوں نے نہیں اختلاف کیا مگر بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا، محض باہمی ضدم ضدا کے سبب سے بیشک تیرا رب ان کے درمیان فیصلہ کرے گا قیامت کے دن ان تمام چیزوں کے بارے میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
واتینھم بینت من الامر فما اختلفوا الامن بعد ماجآء ھم العلم، بغیا بینھم ان ربک یقضی بینھم یوم القیمۃ فیما کانوافیہ یختلفون 17
یہود کی رہنمائی کے لئے مزید اہتمام اور ان کی طرف سے اس کی ناقدری
امر سے مراد یہاں دین و شریعت ہے فرمایا کہ مزید برآں ہم نے یہ کیا کہ شریعت کے احکام ان کو نہایت واضح قطعی اور غیر مشتبہ شکل میں دیے تاکہ ان میں کسی اختلاف یا ان سے فرار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ لیکن اس سارے اہتمام کے باوجود انہوں نے اختلاف کیا اور یہ اختلاف اس وجہ سے نہیں کہ اس کے لئے کوئی وجہ موجود تھی بلکہ علم وحی کی روشنی موجود ہوتے ہوئے انہوں نے محض غلام ضدا کے باعث یہ اختلاف برپا کیا جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلا کہ وہ اللہ کی روشنی سے محروم ہو بیٹھے اب قیامت کے دن اللہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا کہ یہ کس حد تک حق بجانب تھے اور کس حد تک اس میں محض ان کضد، ہٹ دھرمی، بات کی پیچ اور حیرف کو شکست دینے کی خواہش کو دخل رہا ہے۔
مسلمانوں کو تسلی اور قریش کو تنبیہ
یہاں ان کے کردار کے اس پہلو کی طرف اشارہ کرنے سے مقصود ایک طرف تو مسلمانوں کو تسلی دینا ہے کہ آج جو لوگ پنچ بن کر یہ فیصلہ کرنے اٹھے ہیں کہ قریش حق پر ہیں یا مسلمان، ان کا اپنا حال یہ ہے کہ آپس کے اختلافات اور باہمی عناد و حسد کے سبب سے اللہ کے دین سے محروم ہوچکے ہیں۔ ایسے محروم القسمت لوگ اگر تمہارے حسد میں مبتلا ہو کر تمہاری مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوں تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔
دوسری طرف قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ جو لوگ خود اپنی آنکھوں میں دھول جھونک کر اندھے بن چکے ہیں ان سے یہ توقع نہ رکھو کہ وہ تمہارے لئے سر مہ بصیرت لے کر آئیں گے وہ تو یہی چاہیں گہ کے جس طرح وہ اللہ کی روشنی گل کر کے اندھیرے میں بھٹک رہے ہیں اسی طرح تم بھی اس روشنی سے محروم، اسی اندھیرے میں بھٹکتے رہو جس میں ابک تک بھٹکتے رہے ہو۔
اس آیت سے ایک نہایت اہم حقیقت یہ واضح ہوئی کہ دین کی کسی بات کے سمجھنے میں اختلاف ہوا ہے اور ہوسکتا ہے لیکن اسی اختلاف کی محرک اگر باہمی چشمک و رقابت اور ایک دوسرے کو زک پہنچانے اور پچھاڑنے کی خواہش ہو تو یہ چیز بلاشبہ سارے دین کا تیا پانچا کر کے رکھ دیتی ہے اسی نوعیت کے اختلاف نے اہل کتاب کو اللہ کی روشنی سے محروم کیا اور اسی قسم کے اختلافات نے مسلمانوں کو تباہی میں ڈالا۔