تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 18
ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿18﴾
- ثُمَّ جَعَلْنٰكَپھر لگایا ہم نے آپ کو
- عَلٰي شَرِيْعَةٍاوپر ایک طریقے کے۔ شریعت کے
- مِّنَ الْاَمْرِدین میں سے۔ حکم میں سے
- فَاتَّبِعْهَاپس پیروی کرو اس کی
- وَلَااور نہ
- تَتَّبِعْتم پیروی کرو
- اَهْوَآءَ الَّذِيْنَان لوگوں کی خواہشات کی
- لَا يَعْلَمُوْنَجو علم نہیں رکھتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پھر ہم نے تم کو اللہ کی ایک واضح شریعت پر قائم کیا تو تم اسی کی پیروی کرو اور ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر فاتبعھا ولا تتبع اھوآء الذین لا یعلمون 18
نبی ضلعم کو اللہ کے اصل دین پر جمے رہنے کی تاکید
شریعت کے معنی صاف راستہ اور واضح طریقہ کے ہیں اور من الامر جس مفہوم میں اوپر والی نبی صلعم کو اللہ آیت میں استعمال ہوا ہے اسی مفہوم میں اس آیت میں بھی استعمال ہوا ہے فرمایا کہ جب ان اہل کتاب نے اللہ کی بتائی ہو صراط مستقیم گم کردی اور خلق کو صحیح راہ بتانے والا کوئی نہیں رہا تب اللہ نے تم کو اپنی ایک واضح شریعت پر مبعوث فرمایا مطلب یہ ہے کہ اگر آج بنی اسرائیل تمہاری دعوت کے خلاف یہ وسوسہ اندازی کرتے پھرتے ہیں کہ ان کے اور ان کی شریعت کے ہوتے کسی نئی کتاب اور نئی شریعت کی کیا ضرورت تھی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی نظر اپنی کرتوتوں پر نہیں ہے۔ اگر ان کی نظر اپنی کرتوتوں پر ہوتی تو وہ جان جاتے کہ تمہاری بعثت دین کے کن تقاضوں اور خلق کی کس ضرورت کی تکمیل کے لئے ہوئی ہے۔ یہ مضمون حم السجدۃ کی آیت 45 میں بھی گزر چکا ہے۔
فاتبعھا ولا تتبع اھوآء الذین لایعلمون، اھوآء سے مراد، جیسا کہ اس کتاب میں جگہ جگہ ہم واضح کرتے آ رہے ہیں، بد عات ہیں بدعات کی ایجاد چونکہ اپنی خواہشوں ہی کو دین کی سند دینے کے لئے لوگ کرتے ہیں اس وجہ سے قرآن نے ان کو اھواء سے تعبیر کر کے ان کے اصل منبع کا پتہ دے دیا کہ وہ دین یا عقل سے نہیں وجود میں آتی ہیں بلکہ ان کو نفس کی خواہشیں جنم دیتی ہیں۔
یہ نبی ﷺ کو تاکید ہے کہ تم کو اللہ نے جو واضح شریعت، تمام بدعات و خرافات سے پاک کر کے دی ہے اسی کی پیروی کرو اور ان لوگوں کی بدعات کی پیروی نہ کرو جو نہیں جانتے ہیں ان نہیں جاننے والوں میں، مشرکین اور یہود و نصاریٰ سب شامل ہیں۔ مشرکین عرب تو ظاہر ہے کہ کتاب و شریعت سے بالکل نا آشنا امی تھے۔ وہ دین ابراہیمی کے وارث ہونے کے مدعی ضرور تھے لیکن ان کے حصہ میں صرف وہ بدعات آئی تھیں جو ان کے جاہل باپ دادا نے دین ابراہیم ؑ کے نام سے گھڑ رکھی تھیں۔ انہی کی حمایت میں وہ آنحضرت ﷺ سے لڑتے کہ آپ اپنی دعوت سے ان کے آبائی دین کو مٹا رہے ہیں یہود اور نصاریٰ اگرچہ حامل کتاب ہونے کے مدعی تھے لیکن جیسا کہ اوپر والی آیت میں بیان ہوا ہے، انہوں نے اللہ کے دین میں اتنے اختلافات پیدا کر لئے تھے کہ اصل حقیقت بالکل گم ہوگئی تھی قرآن نے جب اصل حقائق واضح کئے اور وہ ان کی بدعات (اھواء) کے خلاف پڑے تو ان کے اندر بھی آگ لگ گئی کہ اس نئی دعوت سے تو ان کی دینداری کا سارا کاروبار معرض خطرہ میں ہے حالانکہ قرآن کی دعوت سے نہ صرف انبیاء کا اصل دین نکھر کر سامنے آ رہا تھا بلکہ اس کی تکمیل بھی ہو رہی تھی لیکن یہود و نصاریٰ چونکہ اصل دین سے بالکل تاریکی میں تھے اس وجہ سے وہ آنحضرت ﷺ کا ساتھ دینے کے بجائے قریش کے ساتھ بن کر اسلام کو مٹانے کے در پے ہوگئے۔ قرآن نے اس آیت میں نبی ﷺ کو تاکید فرمائی کہ اللہ کی شریعت پر تمہی ہو۔ یہ مخالفین خواہ کتنا ہی زور لگائیں لیکن تم اسی پر جمے رہو اور ان لوگوں کی بدعتوں کی پیروی ہرگز نہ کرنا جو اللہ کے اصل دین سے بیخبر ہیں۔
اس تاکید کی ضرورت اس وجہ سے نہیں پیدا ہوئی کہ آنحضرت ﷺ سے خدانخواستہ یہ اندیشہ تھا کہ آپ ان کی بدعات کی طرف مائل ہوجائیں گے بلکہ لوگوں کی بدعات سے یہ بالواسطہ اظہار نفرت کا ایک طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو مخاطب کرنا پسند نہیں فرمایا اس وجہ سے اپنے پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے ان بدعات سے احترار کی تاکید فرما دی۔ یہ اسلوب کلام قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔