Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 19

  1. اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ﴿19﴾

    1. اِنَّهُمْبیشک وہ
    2. لَنْ يُّغْنُوْانہیں کام آسکتے
    3. عَنْكَتجھ کو
    4. مِنَ اللّٰهِاللہ سے
    5. شَيْئًاکچھ بھی
    6. وَاِنَّاور بیشک
    7. الظّٰلِمِيْنَظالم لوگ
    8. بَعْضُهُمْان میں سے بعض
    9. اَوْلِيَآءُدوست ہیں
    10. بَعْضٍبعض کے
    11. وَاللّٰهُاور اللہ
    12. وَلِيُّدوست ہے
    13. الْمُتَّقِيْنَمتقی لوگوں کا
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ لوگ خدا کے آگے تمہارے کچھ کام آنے والے نہ بنیں گے اور اپنی جانوں پر یہ ظلم ڈھانے والے ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور اللہ اپنے ڈرنے والے بندوں کا کار ساز ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
انھم لن یغنوا عنک من اللہ شیاء ط مان الظلمین بعضھم اولیآء بعض واللہ ولی المتقین 19 یہ لوگ کتنا ہی زور لگائیں لیکن ان کی پروا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ لوگ خدا کے حضور میں تمہارے کچھ کام آنے والے نہیں بن سکیں گے۔ جو ذمہ داری اللہ نے تم پر ڈالی ہے اس کی بابت پرسش تمبی سے ہونی ہے، ان سے نہیں ہونی ہے اس وجہ سے اللہ کا جو حکم ہے اس کی تعمیل کرو یہ لوگ خواہ مخالفت کر کے تمہیں دبانے کی کوشش کریں خواہ ہمدردانہ انداز میں تمہیں کچھ نرم کرنا چاہیں، کسی صورت میں بھی ان کی پرواہ نہ کرو۔ وان الظلمین بعضھم اولیآء بعض ج واللہ و لی المتقین، ظالمین، سے مراد یہاں اہل کتاب اور مشرکین دونوں ہی ہیں اس لئے کہ دونوں ہی اللہ کے دین کے معاملہ میں اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔ فرمایا کہ ان ظالموں نے قرآن کی مخالفت کے لئے آپس میں گٹھ جوڑ بیشک کرلیا ہے لیکن اس سے ذرا بھی ہراساں ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ اپنے خدا ترس بندوں (یعنی مسلمانوں) کا کار ساز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب خدا اہل ایمان کار ساز ہے تو پھر وہ کسی سے کیوں ڈریں یاد ہیں وہ اپنے طریقہ پر کام کریں اللہ ہر مشکل میں ان کی مدد فرمائے گا اور جن کی مدد پر اللہ ہو کس کی طاقت ہے کہ ان کو شکست دے سکے !