Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 45. Al-Jaathiya · Ayah 20

  1. هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ﴿20﴾

    1. ھٰذَا بَصَآئِرُیہ روشن نشانیاں ہیں۔ بصیرت کی روشنیاں ہیں
    2. لِلنَّاسِلوگوں کے لیے
    3. وَهُدًىاور ہدایت
    4. وَّرَحْمَةٌاور رحمت
    5. لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَاس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ لوگوں کے لئے بصیرت پیدا کرنے والی آیات کا مجموعہ اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو یقین کریں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ھذا بصآء پر للناس و ھدی و رحمۃ یقوم یوقنون 20 قرآن کی آیات بصیرت بخش ہیں بشرطیکہ لوگ آنکھیں کھولیں یہ اس قرآن کی طرف اشارہ ہے جس کی مخالفت کے لئے اہل کاتب اور مشرکین نے مذکورہ متحدہ محاذ بنایا تھا اوپر آیت 11 میں بھی اس کا ذکر ہوچکا ہے۔ ھذا سے اشارہ قرآن کی طرف بحیثیت مجموعی ہے اور لفظ بصآء د قرآن کی آیات کو پیش نظر رکھ کر استعمال ہوا ہے جن کا کفار مذاق اڑانے کی کوشش کرتے تھے فرمایا کہ یہ قرآن لوگوں کے لئے بصیرت بخش آیات کا مجموعہ ہے۔ اگر لوگ اس کا مذاق اڑاتے اور ان کی مخالفت کرتے ہیں تو خود اپنی ہی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ اس آیت کے اسلوب بیان سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جہاں تک اس قرآن کی آیات کی بصیرت بخشی کا تعلق ہے وہ سورج کی طرح ہر شخص کے لئے عام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی مقصد سے اس کو اتارا ہے لیکن اس سے فیض انہی کو پہنچے گا جو اس سے کسب نور کے لئے اپنی آنکھیں کھولیں گے۔ ھدی و رحمۃ لقوم یوقنون فیض عام کے بعد یہ اس کے فیض خاص کا ذکر ہے کہ جو لوگ اس کے انداز اور اس کی بشارت کا یقین کریں گے ان کے لئے یہ ہدایت اور رحمت ہے ہم دوسرے محل میں وضاحت کرچکے ہیں کہ ہدایت و رحمت کے الفاظ اس سیاق میں جہاں جہاں استعمال ہوئے ہیں دونوں الگ الگ مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ یعنی یقین کرنے والوں کے لئے یہ قرآن دنیا میں ہدایت اور آخرت میں رحمت ثابت ہوگا۔ دنیا میں یہ صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرے گا اور آخرت میں یہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمتوں کے دروازے کھولے گا۔